ہائبرڈ نظام کھل کر معیشت کی بہتری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کام کرے، سینیئر صحافی ابصار عالم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
سینیئر صحافی و تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہمیشہ رہا ہے تاہم مختلف ادوار میں اس کے شراکت داروں کے حصے کے تناسب میں تبدیلی آتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں تبدیلی نہیں ہائبرڈ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، کامران مُرتضیٰ
وی نیوز کے پروگرام ’سیاست اور صحافت‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے ملک میں ہائبرڈ نظام ہے تو کھل کر بتائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی چیز معیشت کے لیے بھی کریں اور کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی اور عوام سے کہیں کہ ہائبرڈ نظام ہے اور اتنے عرصے میں معیشت کو ٹھیک کر لیں گے پھر اس کے بعد نئے الیکشن کروا کر سائیڈ پر ہو جائیں۔
ابصار عالم نے کہا کہ ہائبرڈ نظام صرف پاکستان میں نہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس میں بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق ہائبرڈ نظام دوطرفہ ہوتا ہے لیکن یہ بہت عرصہ تک کامیاب نہیں ہوسکتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کی تعریفوں کی ایک اہم وجہ کیا ہے؟ابصار عالم کا کہنا تھا کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنا چاہیے، منافقت نہیں ہونی چاہیے۔
’انہوں نے کہا کہ ایران سے کھل کر جنگ کی تو اللہ نے فتح دی، بھارت سے کھل کر مقابلہ کیا تو اللہ نے سرخرو کیا اور اسی طرح اب کھل کر افغانوں سے لڑ رہے ہیں تو نتیجہ سب کے سامنے ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ منافقت نہ کریں، ایسے ہی کھل کر جواب دیں، جب تک آپ پراکسیز کر رہے تھے تو نقصان ہو رہا تھا یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بھی اب آپ کی تعریفیں کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: علیمہ خان پر حملہ اور پی ٹی آئی کا اسمبلی بائیکاٹ، ہائبرڈ نظام پر 2 لیگی رہنما آمنے سامنے
پی ٹی آئی کی سیاست کے حوالے سے ابصار عالم نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی بھی وقت پاکستان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جنگ ہو یا کرکٹ میچ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دشمنوں کا ساتھ دیا ہے۔ اللہ بھی تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ انہیں سزا مل رہی ہے۔ اب طے کر لیں کس راستے پر چلنا ہے، نیتن یاہو والے یا کسی اور راستے پر‘۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے ابصار عالم نے کہا کہ ان کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں، انہیں بھی وقت اور سکون درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف ایک حساس شخصیت کے حامل ہیں جو دوسروں کی عزت کا بہت خیال رکھتے ہیں اور کبھی اونچی آواز یا سخت لہجے میں بات نہیں کرتے۔
ابصار عالم نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک حساس انسان کے لیے تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو ان کے قریب تھے بعد میں ان کے مخالف بن گئے، ایسے تجربات کسی بھی انسان کو ہلا دیتے ہیں۔
ان کے مطابق معاشرے میں گالی دینے کا کلچر بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لیے گالی معمول کی بات ہے کیونکہ وہ ایسے ماحول میں پلے بڑھے ہیں مگر یہ حساس لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔
پرنٹ میڈیا سے آئے اور براہ راست ٹی وی سے شروع کرنے والے صحافیوں میں فرقابصار عالم نے پاکستانی میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں پرنٹ میڈیا کے لوگ ہی ٹی وی میں آئے لیکن بعد میں ایک نئی نسل نے براہ راست ٹی وی سے آغاز کیا جس میں پرنٹ کی اخلاقیات اور پروفیشنلزم کم دکھائی دیا۔
ابصار عالم نے اپنے صحافتی سفر کے حوالے سے کہا کہ جب انہوں نے صحافت شروع کی تو یہ وہی زمانہ تھا جو 16ویں صدی کے پرنٹنگ پریس کے آغاز سے چلا آرہا تھا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہائبرڈ نظام کو تقویت ملی،حافظ نعیم الرحمان
ان کے مطابق صحافت تقریباً 4 سو سال تک اسی انداز میں جاری رہی صرف تکنیکی ترقی ہوئی جیسے ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر تک کا سفر یا سیاہ و سفید تصاویر سے رنگین پرنٹنگ تک۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کی صبح اخبار پڑھے بغیر شروع نہیں ہوتی تھی لیکن چونکہ پاکستان میں شرح خواندگی کم تھی اس لیے ٹی وی نے تیزی سے جگہ بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اخبار نہیں پڑھ سکتے تھے وہ ٹی وی کے ذریعے خبریں سننے اور دیکھنے لگے اور یہی انقلاب تھا۔
فیک نیوز کا سفر کہاں سے تیز ہوا؟ابصار عالم نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے آنے سے رفتار بڑھ گئی اور ’سب سے پہلے خبر دینے‘ کی دوڑ شروع ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوڑ نے صحافتی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا اور غیر مصدقہ خبریں سامنے آنے لگیں اور یہی فیک نیوز کا پہلا قدم تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب مین اسٹریم میڈیا بھی اس رجحان سے متاثر ہو چکا ہے اور صحافی سیاسی وابستگیوں میں بٹ گئے ہیں۔
ابصار عالم نے کہا کہ ’نیوٹرل‘ ہونے کا تصور غلط ہے کیونکہ کوئی انسان مکمل غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھے صحافی کی رائے ضرور ہوتی ہے، خواہ وہ جنگ، گورننس یا کرپشن کوئی بھی معاملہ ہو۔
ابصار عالم نے ایک واقعہ سنایا کہ جب آفتاب اقبال نے جیو ٹی وی پر ’خبرناک‘ پروگرام شروع کیا تو وہ اکثر ’بے غیرت‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ’پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہے‘، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں ریمارکس
ابصار عالم نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ لفظ نامناسب ہے مگر آفتاب اقبال نے کہا کہ یہ عام بول چال کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے انہیں احساس ہوا کہ ثقافت انسان کی سوچ اور حساسیت کو شکل دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں صحافت کا معیار پاکستان میں ہائبرڈ نظام سینیئر صحافی ابصار عالم فیک نیوز فیک نیوز کا آغاز فیک نیوز کا سفر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں صحافت کا معیار پاکستان میں ہائبرڈ نظام سینیئر صحافی ابصار عالم فیک نیوز فیک نیوز کا ا غاز فیک نیوز کا سفر انہوں نے مزید کہا کہ ابصار عالم نے کہا کہ میں ہائبرڈ نظام انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فیک نیوز کا کا کہنا نہیں ہو کے لیے کھل کر
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :