ایک نیا فیچر جو چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کا تجربہ ہمیشہ کیلئے بدل دے گا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ویسے تو چیٹ یا ڈائریکٹ میسجز (ڈی ایم) کا آپشن سوشل میڈیا ایپس میں نظر آتا ہے مگر بہت جلد چیٹ جی پی ٹی میں بھی اسے استعمال کیا جاسکے گا۔
اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں ڈائریکٹ میسجنگ فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔
بظاہر اس فیچر سے یہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں تبدیل ہو جائے گا۔
چیٹ جی پی ٹی کے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے نئے بیٹا (beta) ورژن میں موجود کوڈ میں اس بات کا انکشاف ہوا۔
ایک رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی ایپ میں بہت جلد صارفین دیگر افراد کو براہ راست ون آن ون یا گروپ میسجز بھیج سکیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی ون آن ون چیٹ، گروپ میسجنگ اور بنیادی یوزر کنٹرولز سپورٹ جیسے دیگر افراد کو بلاک کرنا وغیرہ کی آزمائش کی جا رہی ہے۔
یہ فیچرز ابھی فعال نہیں مگر ان سے عندیہ ملتا ہے کہ اس روایتی سنگل یوزر ماڈل کو زیادہ سوشل بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
نومبر 2022 میں متعارف کرائے جانے کے بعد سے چیٹ جی پی ٹی میں اے آئی سے ون آن ون چیٹ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
مگر اب اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور بیٹا کوڈ سے یہ عندیہ بھی ملا کہ صارفین کی پروفائلز میں پروفائل پکچرز اور ڈسپلے نیمز کا استعمال کیا جاسکے گا۔
ان نئے فیچرز کے حوالے سے تفصیلات ابھی محدود ہیں تو کافی کچھ معلوم نہیں۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ کیا لوگوں سے چیٹ کے دوران اے آئی چیٹ بوٹ کو بھی اس کا حصہ بنایا جاسکے گا یا نہیں۔
ڈائریکٹ میسجنگ کا اضافہ چیٹ جی پی ٹی کے موبائل تجربے کو مکمل طور پر بدل دے گا اور صارفین نہ صرف اے آئی بلکہ اس پلیٹ فارم کو دیگر افراد سے رابطوں یا ملکر کام کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکیں گے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے اس فیچر کو باضابطہ طور پر متعارف کرانے کے حوالے سے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اے ا ئی کیا جا
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے