تحریک انصاف کے گرفتار ضلعی صدر شہباز بھٹی کو عدالت میں پیش کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
تحریک انصاف کے گرفتار ضلعی صدر شہباز بھٹی کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما کی 26 نومبر کے 4 مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی، پولیس نے چاروں مقدمات میں شہباز بھٹی کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا۔
وکلائے صفائی نے گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر کیسوں سے ڈسچارج کی استدعا کی اور مؤقف اپنایا کہ شہباز بھٹی کی ایک سال بعد گرفتاری سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ سرکاری پراسیکیوٹر نے جسمانی ریمانڈ کی حمایت کر دی تفتیش ہوگی تو پتہ چلے گا بے گناہ ہے یا ملزم، شہباز بھٹی کو تھانہ سٹی صادق آباد نیو ٹاؤن اور وارث خان درج مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی، اس کے علاوہ اڈیالہ جیل باہر سے گرفتار پی ٹی آئی کارکن عثمان جوڑا کو شناخت پریڈ کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔
پی ٹی آئی یوتھ پنجاب کے لیڈر راجہ شہباز احمد بھٹی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ میں راجہ شہباز احمد بھٹی کی گرفتاری کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی جس کے مطابق وہ راولپنڈی کے مقدمہ میں گرفتار ہیں، راجہ شہباز بھٹی کے خلاف تھانہ شالیمار میں کوئی مقدمہ درج نہیں اور نہ گرفتاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق راجہ شہباز بھٹی کو راولپنڈی پولیس نے گرفتار کررکھاہے، راجہ شہباز بھٹی کے خلاف تھانہ سٹی راولپنڈی میں دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، عدالت نےوفاقی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش ہوجانے پر بازیابی درخواست نمٹادی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہباز بھٹی کو
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔