بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
بنگلہ دیش کی ایک خاص ٹریبونل عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف جرائمِ بشریت کے الزامات پر موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے، جن کا تعلق جولائی-اگست 2024 میں ہونے والے طلبہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے ہے۔
الزامات اور الزامات کی نوعیت
پروسی کیوشن کے مطابق مظاہروں کے دوران سیکڑوں طلبہ، پولیس اہلکار اور سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، اور شیخ حسینہ نے مظاہرین کی کریک ڈاؤن کے احکامات دیے، یا کم از کم ان واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں۔
یونائیٹڈ نیشنز کے مطابق یہ ہلاکتیں ممکنہ طور پر جرائمِ بشریت کی حیثیت رکھتی ہیں۔
شیخ حسینہ کی موجودہ حالت اور مقدمے کا پسِ منظر
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد ملک سے باہر ہیں اور عدالتِ سے غیر حاضری میں مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے عوامی احتجاج کے دوران طاقت کا غیر متناسب استعمال کیا۔
پروسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ وہ ایک ایسے مرکزی کردار کے طور پر ذمہ دار ہیں جس کے گرد تمام جرائم جولائی-اگست کی بغاوت کے دوران گھومتے تھے۔
سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی حلقے عدالت کے فیصلے اور مقدمے کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ شیخ حسینہ کے خلاف عائد الزامات کی اِنتہائی سنگینی کے پیش نظر مناسب قانونی شواہد اور انصافِ مؤثر ضروری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔