ناران میں جنات ہیں، میرےکمرےکا دروازہ خود بخود بندکھل رہا تھا : اداکارہ حراکا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ حرا سومرو نے ناران میں جنات کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے۔حال ہی میں اداکارہ حرا سومرو ایک نجی پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جس دوران اداکارہ نے مختلف اور دلچسپ موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔دوران شو اداکارہ نے میزبان کے سوال پر قسم کھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ناران میں جنات موجود ہیں، میرا 100 فیصد یقین ہے کہ ناران میں جنات ہوتے ہیں اور وہ علاقہ بھاری ہے’۔اداکارہ نے مداحوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ’اگر آپ کو ناران کے کسی ہوٹل میں کبھی کہیں عجیب وغریب چیزیں محسوس ہوں تو آپ غلط نہیں ہیں‘۔دوران گفتگو حرا سومرو نے ناران میں ہوٹل کا نام لیے بتائے بغیر اپنا تجربہ شیئر کرتے ہونے کہا کہ ’ میں جب ناران میں ایک ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں تو اس دوران وہاں کا دروازہ بار بار کھل رہا تھا اور بار بار بند ہو رہا تھا‘۔اداکارہ کے مطابق ’ناران کے ہوٹلز میں پنکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہاں ہر آواز باآسانی سنی جا سکتی ہے، 2 مرتبہ میرے ہوٹل کے واش روم میں فلیش بھی ہوا جس کی مجھے باقاعدہ آواز سنائی دی
‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ناران میں جنات
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔