بھارت پاکستانی کانٹینٹ کو نیٹ فلکس پر بلاک کرنا چاہتا ہے، فرحان سعید کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستانی اداکار و گلوکار فرحان سعید نے کہا ہے کہ بھارت پاکستانی ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور اسی وجہ سے وہ پاکستانی کانٹینٹ کی نیٹ فلکس تک رسائی کو محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرحان سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے موجودہ حالات کے مطابق سب سے بہتر راستہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے معیاری کانٹینٹ بنانا ہے، کیونکہ نیٹ فلکس پر آنے کے بعد پاکستانی ڈراموں کو پوری دنیا دیکھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی وجوہات کے باعث پڑوسی ملک پاکستان کے ڈراموں کو بلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ہمارے ڈرامے معیار کے لحاظ سے پہلے ہی بھارت تک پہنچ چکے ہیں اور وہاں بے حد مقبول ہیں۔
فرحان سعید نے بتایا کہ انہوں نے دہلی ایئرپورٹ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستانی ڈرامہ میوٹ ہونے کے باوجود سب لوگ اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ اچھا کانٹینٹ بلاک کرنے سے نہیں رکتا، لوگ ہر حال میں اسے دیکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر اپنے کانٹینٹ کا کنٹرول خود سنبھالے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی پابندی کے خدشے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔