اجلاس کے دوران سوشلسٹ اینڈ ڈیموکریٹک گروپ کی سربراہ ایراٹکسیہ گارسیا پیریز نے کہا کہ غزہ کے عوام کی اذیت ناک حالت پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قابض اسرائیل کو اپنے جرائم کی سزا نہیں ملتی تب تک حقیقی امن ممکن نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور فلسطینی عوام پر جاری درندگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ یورپی پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران سامنے آیا جو یورپی یونین کے رہنماؤں کی کل ہونے والی برسلز سربراہ کانفرنس سے قبل منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران سوشلسٹ اینڈ ڈیموکریٹک گروپ کی سربراہ ایراٹکسیہ گارسیا پیریز نے کہا کہ غزہ کے عوام کی اذیت ناک حالت پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قابض اسرائیل کو اپنے جرائم کی سزا نہیں ملتی تب تک حقیقی امن ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کونسل کو واضح اور فیصلہ کن موقف اختیار کرنا چاہیے اور قابض اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اس کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو غزہ میں ہونے والی ’’نسل کشی‘‘ پر جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔

فرانسیسی رکن پارلیمنٹ مانون اوبری، جو بائیں بازو کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک بلاک سے تعلق رکھتی ہیں، نے غزہ میں جاری قتل و غارت اور تباہی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی کمیشن نے زمین پر رونما ہونے والی حقیقتوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اوبری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیس نکاتی نام نہاد امن اسکیم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کسی امن منصوبے کا نہیں بلکہ ’’غزہ پر نیا استعماری قبضہ‘‘ قائم کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی برادری تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہے اور دنیا یہ ضرور یاد رکھے گی کہ کن ممالک نے قابض اسرائیل کو خصوصی شراکت دار کا درجہ برقرار رکھا اور اس پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا، جب کہ وہ مسلسل قتل و تباہی کی پالیسی پر عمل پیرا رہا۔ اسی طرح ہسپانوی رکن پارلیمنٹ ایرین مونتیرو نے بھی قابض اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط منقطع کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم