روسی اثاثے ضبط کرنے میں بین الاقوامی قانون کا احترام لازم ہے، اٹلی کی وزیراعظم کا یورپی یونین کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ روس کے منجمد اثاثے استعمال کرنے کی کسی بھی تجویز میں بین الاقوامی قوانین کی پابندی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: اٹلی میں برقع پر پابندی کا نیا قانون زیرِ غور، خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ ہوسکتا ہے؟
خبر رساں ادارے رشیا ٹوڈے کے مطابق انہوں نے سینیٹ سے خطاب میں کہا کہ اگرچہ ماسکو پر دباؤ بڑھانا ضروری ہے، مگر مالیاتی استحکام اور یورو زون کے مفادات کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
مزید پڑھیں: اٹلی: غزہ کے حق میں لاکھوں افراد کا مظاہرہ، پولیس سے جھڑپیں
ان کا کہنا تھا کہ یورپی کمیشن روس کے قریباً 210 ارب یورو کے منجمد اثاثوں سے یوکرین کے لیے قرضوں کی ضمانت دینے کی تجویز پر غور کر رہا ہے، جسے ماسکو نے ’چوری‘ قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی رشیا ٹوڈے روس یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔