غیر قانونی کھڑی بالائی منزلیں رہائشیوں کے لیے موت کا سامان، انتظامیہ گہری نیندمیں
ڈائریکٹر سید ضیاء اور بلڈر مافیا کی ملی بھگت !پلاٹ نمبر E6 میںٹوٹتی دیواریں، پھٹتی دراڑیں

(اسٹاف رپورٹر) پاک کالونی میں واقع پلاٹ نمبر E6 کی کمزور بنیادوں پر غیر قانونی طور پر کھڑی کی گئی بالائی منزلیں رہائشیوں کے لیے موت کا سامان بن گئی ہیں، جبکہ متعلقہ محکموں اور ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سید ضیاء کی ملی بھگت اور چشم پوشی نے اس خطرناک کھیل کو فروغ دیا ہے ۔مقامی رہائشیوں کے مطابق عمارت کی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران عمارت کے ستونوں اور دیواروں میں بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔’’ہم ہر دن موت کے ساتھ سوتے ہیں اور موت کے ساتھ اٹھتے ہیں‘‘،جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک بزرگ رہائشی محمد صدیق نے دھیمی آواز میں بتایا، ’’رات کو جب بھی کوئی ٹرک گزرتا ہے ، ایسا لگتا ہے جیسے پوری عمارت ہل رہی ہو‘‘۔مقامی ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں نے محکمہ بلدیات اور متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو بھاری رشوت دے کر تعمیراتی اجازت نامہ حاصل کیا ہے ۔ایک خوفزدہ رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’جب بھی ہم نے شکایت کی، ٹھیکیداروں نے کھلم کھلا کہا کہ انہیں کسی کی پرواہ نہیں، ان کے پیچھے ’بڑے لوگ‘کھڑے ہیں۔’’رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ بلدیات میں متعدد بار تحریری شکایات درج کرائیں، مگر ہر بار انہیں خاموش کروادیا گیا۔ دوسری طرف محکمہ بلدیات کے ترجمان نے معمولی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’معاملے کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے‘‘ ۔یہی بیانات مہینوں سے دہرائے جا رہے ہیں۔شہری حقوق کے کارکن عمر فاروق نے انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا،’’یہ صرف عمارت کا معاملہ نہیں، انسانی جانوں سے کھیلنے کا معاملہ ہے ۔ انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے پورے محلے کی سلامتی سے کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ ہم فوری طور پر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس معاملے کو اٹھانے کا فیصلہ کر چکے ہیں‘‘۔عمارت کے مکینوں نے حکام کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر عمارت کا معائنہ نہ کروایا گیا اور غیر قانونی تعمیرات کو بند نہ کروایا گیا،تو وہ ہائی کورٹ کے باہر دھرنا دے کر احتجاج کریں گے ۔سندھ بلڈنگ کا یہ معاملہ شہر میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات اور انتظامیہ کی ملی بھگت کا ایک المیہ ہے ۔اگر فوری طور پر اس معاملے پر توجہ نہ دی گئی، تو کسی بڑے حادثے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ، جس کی ذمہ داری براہ راست متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود