اوورسیز پاکستانیوں کو گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی (ٹرانسفر) کے پیچیدہ اور وقت طلب عمل سے اب نجات مل گئی ہے۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک نئی سہولت متعارف کرائی ہے جس کے تحت اب وہ پاک آئی ڈی (Pak-ID) موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن بائیو میٹرک تصدیق کر کے گاڑی ٹرانسفر کرا سکیں گے۔

سابقہ نظام کی مشکلات

ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد بلال اعظم کے مطابق پہلے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی گاڑی فروخت کرنے کے بعد گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کے لیے پاکستان ایمبیسی جا کر بائیو میٹرک کروانا پڑتی تھی، اس کے بعد یہاں پاکستان میں وزارتِ خارجہ سے اس کی تصدیق (Attestation) کروانے میں بھی خاصا وقت اور محنت درکار ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:جائیداد تنازعات میں اوور سیز کو فوری انصاف ملے گا، حکومت کا خصوصی عدالتیں بنانے کا اعلان

یہ عمل کافی پیچیدہ اور وقت طلب تھا۔ لیکن اب اس پورے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو اپنی گاڑی فروخت کرنے اور گاڑی خریدنے والے کو گاڑی اپنے نام کرانے میں بڑی آسانی ہو جائے گی۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے موبائل فون پر پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے بائیو میٹرک تصدیق کر سکتے ہیں۔

گھر بیٹھے بائیو میٹرک تصدیق

اوورسیز پاکستانی اب گھر بیٹھے نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے انگلیوں کے نشان درج کر کے اپنی بائیو میٹرک تصدیق کروا سکتے ہیں، اور گاڑی کی ملکیت کی ٹرانسفر ممکن ہو جائے گی۔

گاڑی خریدنے والے حضرات کو بھی یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے پاس سیلر کی بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ٹرانسفر لیٹر بھی موجود ہو تاکہ ٹرانسفر میں کسی قسم کی دقت نہ آئے۔

سہولت کے فوائد

اسلام آباد ایکسائز کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت کرے گا بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت بن کر سامنے آئے گا۔ ماضی میں چونکہ اوورسیز پاکستانیوں کو گاڑی کی ٹرانسفر میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا، اس لیے انہیں اپنی گاڑیاں نسبتاً کم قیمت میں فروخت کرنا پڑتی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ایکسائز اوور سیز پاکستانی اوورسیز پاکستانی ٹرانسفر گاڑی کی خرید و فروخت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایکسائز اوور سیز پاکستانی اوورسیز پاکستانی گاڑی کی خرید و فروخت اوورسیز پاکستانیوں بائیو میٹرک تصدیق اوورسیز پاکستانی پاکستانیوں کو گاڑی کی کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر