اجتماع عام فرسودہ نظام بدلنے کا نقطہ آغاز ہوگا، ڈاکٹر نورالحق
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-02-9
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی ڈاکٹر نور الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماع عام ملک میں جاری فرسودہ نظام بدلنے کا نقطۂ آغاز ہوگا، عوام اسلامی و خوشحال پاکستان کی تعمیر کیلیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، ہر سطح کے ذمے داران، ارکان، کارکنان، ممبران، برادر تنظیمات، خواتین و نوجوانان اجتماع عام کی تیاریاں تیز کریں اور ہر فرد تک دعوت پہنچائیں اور اجتماع عام میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی میں ہر سطح کے ناظمین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ناظم سفر نور النویز اور سیکرٹری ضلع راشد خان نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر نورالحق نے کہا کہ موجودہ حکمران عوام کو ڈیلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، ان حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ جس کیلیے جماعت اسلامی منظم جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام ہی اس ملک کا مقدر اور تمام مسائل کا حل ہے، جماعت اسلامی کا مقصد اس ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے جو کہ انبیاء علیہم السلام کا مشن ہے۔ ہمارا یہ مشن قرآن و سنت کی بالادستی تک جاری گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 21، 22، 23 نومبر کو مینار پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شرکت کرکے اس عظیم جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔