مذہبی جماعت کے نائب امیر ظہیر احسن شاہ کا مزید 10روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے مذہبی جماعت کے نائب امیر ظہیر احسن شاہ کا مزید 10دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
عدالت نے ملزم ظہیر احسن شاہ کو 30 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا، ملزم کو آج 12 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت کی۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ امن و امان کی صورت حال کے باعث آواز میچنگ اور فوٹو گرامیٹک نہیں ہو سکے۔ اس لیے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا منظور کر لی اور ہدایت کی کہ ملزم کو 30 اکتوبر کو دوبارہ پیش کیا جائے۔
ملزم ظہیر احسن شاہ کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ظہیر احسن شاہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔