ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ریلویز پولیس نے لاہور میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی بریگیڈیئر کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ریلوے پولیس کے مطابق ملزم بہادر علی سرکاری دفاتر میں فون کرکے خود کو آرمی کا بریگیڈیئر بتا کر فراڈ کرتا تھا۔
ملزم نے فروری میں ایس پی ورکشاپس دفتر کال کرکے خود کو حاضر سروس بریگیڈیئر ظاہر کیا، ملزم نے بذریعہ کال مغلپورہ کے صوفی شوکت قادری سے رابطہ کروانے کی درخواست کی، رابطہ کروانے پر ملزم نے شوکت قادری کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک لاکھ روپے بھتہ مانگا۔
ملزم نے مدرسے کے وضو خانے کے قریب دہشت گردی سے منسوب موبائل سمز موجود ہونے کا انکشاف کیا۔
تصدیق کرنے پر ملزم نے جعلی بریگیڈیئر بن کر فرضی نام سے مدرسہ کی انتظامیہ کو بلیک میل کرکے بھتہ مانگا جس پر ریلویز پولیس نے فروری کے مہینے میں ملزم کیخلاف ٹیلیگراف ایکٹ کے تحت تھانہ مغلپورہ ورکشاپس میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔
ملزم کی گرفتاری کے لئے ایس پی نے انسپکٹر راشد شاہ زمان اور ایس ایچ او ورکشاپس لیاقت علی سمیت دیگر اہلکاروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی بریگیڈیئر ملزم بہادر علی کو گرفتار کرلیا، مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔