چین کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار) وزیر منصوبہ بندی و ترقی پرو فیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صرف انفراسٹرکچر کی بہتری تک محدود نہیں ہو گا۔ اس میں علاقائی روابط کا دائرہ بھی اس میں شامل ہو گا، اس کے تحت پاکستان ایک نئی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ گوادر پرو کے مطابق وزارت منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات (پی ڈی اینڈ ایس آئی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کو تیز کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ جاری کر دیا ہے۔ تھاکوٹ-رائے کوٹ موٹروے کے لیے بولی کا عمل آئندہ دو ماہ میں شروع ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔