دانا حکمران‘ جس وقت اپنے ملکوں کو ترقی کی شاہراہ پر کامیاب سفر کی منزلیں طے کروا رہے ہوتے ہیں تو ان کا رویہ ‘ حیرت انگیز طور پر یکساں ہوتا ہے۔
کوئی مغربی ملک آگے بڑھ رہا ہے یا کوئی ایشیائی ملک ترقی کے زینہ پر قدم رکھ رہا ہو۔ ایک دوسرے سے حد درجہ مختلف رہنما‘ ایک نکتہ پر سختی سے عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ کبھی بھی تنازعہ میں پڑ کر جنگ کی طرف ہرگز ہرگز نہیں جاتے۔ اپنی قوم کو تنازعات میں پڑنے نہیں دیتے۔ امن کی وہ فضا قائم کرتے ہیں جس میں ان کے لوگ‘ بڑے سکون سے ترقی کے مواقع تراشتے ہیں۔ خوشحالی کی طرف جاتے ہیں۔ اسی عمل میں اپنے ملک کو بھی امیر اور ترقی یافتہ بنا دیتے ہیں۔
چپ کا روزہ اس وقت کھولتے ہیں۔ جب دنیا میں ان کی طاقتور پہچان بن چکی ہوتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ آگے نکلنے والے ملکوں کے اندر کوئی بھی نظام ہو‘ وہ کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ جمہوریت‘ انسانی حقوق‘ قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار بھی کسی ریاست میں تعمیر و ترقی کے ضامن نہیں ہوتے۔ یکسر غیر روایتی بات کر رہا ہوں۔ اس کو دہراتا ہوں۔خوش نما الفاظ‘ کسی بھی نظام کو بہتر نہیں بناتے۔ بلکہ معدودے چند لوگوں کے سماجی اور مالی استحکام کے نشان ہوتے ہیں۔
ذہن میں آئے گا کہ ہمیں تو ‘ تمام وقت صرف اور صرف یہی بتایا جاتا ہے کہ جناب اگر جمہوریت‘ انسانی حقوق اور اس طرح کے خوشنما پرندے ‘ کسی بھی ملک کے سر پر بیٹھ جائیں۔ تو سمجھ لیجیے ‘کہ اس قوم کے دن پھر گئے اور وہ کامیاب ہو گئی۔ یہ کلیہ سب ملکوں کے لیے درست نہیں ہے۔ بعینہ اس امر کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ اگر کسی بھی قوم میں غیر جمہوری معاملات پنپ رہے ہوں تو وہ کامیاب و کامران گردانی جائے گی۔ ہرگز نہیں بالکل نہیں۔ افریقہ کے اکثر امیر ممالک‘ ایک ظالمانہ نظام کا شکار ہیں۔ غریب ہیں کیونکہ اشرافیہ‘ عام لوگوں کا خون چوس رہی ہے۔ ظلم کو وہاں دوام حاصل ہے۔
غور سے معاملات کو پرکھیے ۔ دراصل ملکی ترقی کا کوئی ایک یکساں فارمولا نہیں ہے۔ چین کی مثال دینا چاہتا ہوں۔ یہاں جمہوریت نام کی چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ آزادی اظہار کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ انسانی حقوق یا قانون کی حکمرانی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ پھر بھی دنیا کی دوسری مضبوط ترین معیشت ہے۔ جی ڈی پی‘ انیس ٹریلین ڈالر کی ہے۔ چین جب پوری دنیا میں ہر چیز بنانے لگا تو وہاں کی حکومت کی دانش مندی کی بدولت کرہ ارض کے تمام سرمایہ دار، کاروبار وہاںمنتقل ہو گئے۔میلوں لمبی ‘ فیکٹریاں لگنی شروع ہو گئیں۔
دولت کی خیرہ کن ریل پیل نظر آنے لگی۔ انفراسٹریکچر کے وہ وہ کارنامے سامنے آنے لگے کہ پوری دنیا نے دانتوں تلے انگلیاں چبا ڈالیں۔مگر رکیے۔ کیا ملکی دولت‘ ایک مضبوط دفاع میں معاون نہیں بنی۔ جی بنی ۔ آج چین ‘ امریکا کے بعد دوسری عظیم ترین عسکری طاقت ہے۔ اب مزید غور فرمایئے۔ چین کسی بھی جگہ‘ کسی بھی صورت میں‘ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنتا۔ اپنی فوجی طاقت کو اس نے کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔ تائیوان سے چین کا شدید جھگڑا ہے۔ مگر چینی صدر نے آج تک‘ تائیوان کو فتح کرنے کی بات نہیں کی۔ جوہری نکتہ یہ ہے کہ چین کبھی بھی اپنی بے مثال ترقی کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا نہیں چاہتا۔یہ حد درجہ اہم بات ہے ۔ کامیاب لیڈر‘ ہمیشہ جنگ سے اجتناب کرتے ہیں۔
اب ذرا جرمنی کی طرف آیئے۔ یکے بعد دیگرے‘ اس ملک میں ایسے حکمران آتے رہے ۔ جنھوں نے حد درجہ عظیم نعروں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ان رہنماؤں نے جرمن عوام کو ایسے سبزباغ دکھائے‘ کہ انھیں یقین ہو گیا کہ وہ دنیا کے منفرد اور عظیم ترین لوگ ہیں۔ ان کا حق ہے کہ دنیا پر حکومت کریں۔ قیصر ولیم دوم اور ہٹلر کی تقاریر اٹھا کر دیکھیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ان سفاک رہنماؤں نے جرمن عوام کو جذباتیت کے خونی سمندر میں پھینک دیا ۔ غیر حقیقی پالیسیوں کا نتیجہ کیا نکلا۔ جرمنی دو مرتبہ ‘ خاک اور خون کا ڈھیر بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں تو ہٹلر اپنے بنکر میں چھپ کر مرتے دم تک تقاریر کر رہا تھا۔
جرمن قوم کو جھوٹا یقین دلا رہا تھا کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں۔ باقی‘ آپ سب کو معلوم ہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر آج تک جرمن چانسلر نے جنگ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ وہ ایک مکمل اور باضابطہ جمہوریت ہے۔ انھوںنے صنعتی ترقی پر توجہ دی۔ آج جرمنی ‘ دنیا کی تیسری اقتصادی قوت ہے۔ یورپ میں پہلے نمبر پر ہے۔ جی ڈی پی کاحجم پانچ ٹریلین ڈالر ہے۔ آپ لوگوں کا معیار زندگی دیکھیں ۔ تو ان کے معاملات دیکھ کر رشک آتا ہے۔ جرمنی اب ایک فلاحی ریاست ہے۔ مضبوط عسکری قوت ہونے کے باوجود ‘ جرمنی دنیا میں کسی تنازعہ کا حصہ نہیں بنتا۔ عرض کرنے کا مقصد سادہ سا ہے۔ جو ممالک‘ اپنے عوام کی ترقی پر نگاہ رکھتے ہیں‘ وہ کبھی بھی اپنے نظام کو امتحان میں نہیں ڈالتے۔
اب ایک اور زاویے سے بھی معاملہ کو دیکھئے۔ دنیا میں جو بھی سپر پاور بنی ہے ۔ وہ کبھی بھی امن سے نہیں رہ سکتی۔ اس کے مزاج میں ہوتا ہے ‘ کہ کمزور ملکوں کو جوتے کی نوک پر رکھے۔ وہاں اپنی مرضی کے حکمران لائے۔ اپنا تسلط بڑھائے۔ پوری دنیا پر اس کی جے جے کار ہو۔ اس طرز عمل میں کسی بھی بین الاقوامی طاقت میں رتی برابر ترقی نہیں ہے۔ رومن ایمپائر ‘ مسلمان حکومتیں ‘ روس کے زار‘ اور اب امریکا کے سرخیل ‘ مکمل طور پر یکساں باتیں اور حرکتیں کر رہے ہیں۔ ماضی اور حال میں بھی یہی کچھ ہے۔
اس کا نتیجہ بھی بالکل یکساں نکلتا ہے۔ ہر بین الاقوامی قوت ‘ چند صدیوں کے بعد ‘ زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ جنگیں‘ ان کے خزانے خالی کر ڈالتی ہیں۔ عوام میں حکومتی فیصلوں پر عدم اعتماد پختہ ہو جاتا ہے اور پھر ریاستیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔ امریکا بھی اسی مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ اس کا سپر پاور برقرار رہنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ دنیا میں دیگر مضبوط ‘ قوتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ قدرت کا ہمہ گیر فیصلہ ‘ دیوار پر لکھا ہوا صاف نظر آ رہا ہے۔
ان تمام معاملات پر گہری نظر ڈالتے ہوئے‘ اب ارض پاکستان پر غور کیجیے۔ وہ تمام عوامل‘ جو کسی بھی قوم کو ترقی سے روکتے ہیں۔ طاقتور جنات کی طرح ہم پر حاوی ہو چکے ہیں۔ اپنے ملک کے متعلق کوئی منفی بات نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ مجھے اس مٹی سے عشق ہے۔ ذرا سوچیے۔ نہ ہم جمہوری ملک ہیں اور نہ ہم اپنے آپ کو غیر جمہوری گردانتے ہیں۔ ہمارا پورا نظام ہی فریب ‘ جھوٹ اور نعروں پر مبنی ہے۔
لوگوں کی اکثریت‘ ان تمام ادنیٰ معاملات کو سچ سمجھ رہی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے سب کچھ فراموش کر دیجیے۔ مگر خدارا ، یہ تو دیکھئے کہ جو حکمران گزشتہ سات دہائیوں سے ہمارے مکمل وسائل پر قابض ہیں‘ کیا وہ واقعی ‘ عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ نہیں صاحب! سچ تو یہ ہے کہ وہ دنیا کے امیر ترین لوگ بن چکے ہیں۔ یہ ملک ان کی چراگاہ ہے۔ اور عام آدمی‘ بنیادی سہولتوں کے لیے سسک رہا ہے ۔ غیر متوازن سوچ کی وجہ سے‘ حکمران طبقات عوامی معاملات کو حل کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے ہیں۔ لہٰذا ایک مصنوعی نظامِ حکومت ہے، جس میں چند خاندان اور ریاستی اداروں کے چند لوگ‘ تمام وسائل پر قابض چلے آرہے ہیں۔ چلیے اس کو بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ تمام فیصلے‘ عوام کی فلاح و بہبود اور صنعتی ترقی کے لیے مختص کرتے رہتے۔ مگر یہ ہو نہیں سکا، اور ہو گا بھی نہیں۔ لہٰذا توجہ ہٹانے کے لیے بالکل سادہ سا حل نکالا گیا ہے۔
ملک کو اتنا غیر مستحکم بنا دیا جائے کہ لوگ ‘ مجبوری میں ان طبقات کو مسیحا تسلیم کر لیں۔ بدقسمتی سے یہی ہور ہا ہے۔ تیس ملٹی نیشنل کمپنیاں ‘ پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں لاکھوں پاکستانی ‘ اپنے سرمایہ اور علم سمیٹ‘ ہجرت کر چکے ہیں۔ قرضے لینے کے وہ ریکارڈ بنا دیے گئے ہیں کہ سن کر خوف آتا ہے۔ آئی ایم ایف ‘ ہمارے اقتصادی اعداد و شمار ‘ پر قطعاً یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مگر ہم نے ان تمام مسائل کا غیر دانشمندانہ حل تلاش کر لیا ہے۔ پورا نظام پیہم لڑائی پر استوار ہے۔ لوگوں کو ہمیشہ باور کرایا گیا کہ ملکی سلامتی خطرے میں ہے۔ مگر یہ پوچھنے کی اجازت نہیں کہ جناب‘ قومی سلامتی پالیسی تو ستر برس سے آپ کے پاس ہے۔
اگر معاملات خراب ہیں تو اس کی وجہ عوام نہیں‘ بلکہ حکمرانوں کی خوفناک پالیسیاںتھیں۔ مگر اب کوئی بھی ذمے داری لینے کے لیے تیار نہیں۔ ہر کوئی‘ بوجھ دوسرے پر ڈال رہا ہے۔ دلیل پر بات کرنے والوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اندرونی خلفشار کو بھی حکمران‘ خود ہوا دیتے رہے ہیں۔ اب تو ہر چیز سب کے سامنے آ چکی ہے۔ حل کی طرف آیئے۔ حل بہت سادہ سا ہے۔ ہمسایہ ملکوں سے پائیدار امن قائم کیجیے۔ طرز حکمرانی میں بنیادی تبدیلی لائی جائے۔ کسی طرح کی لڑائی سے اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ جنگوں سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔صرف امن ہی ‘ ترقی کی دلیل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دنیا میں کبھی بھی ترقی کے نہیں بن کسی بھی نہیں ہے چکے ہیں رہے ہیں کی طرف رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔