جنگوں کا سوداگر، چاپلوسی کا تاج
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میر بابر مشتاق
دنیا میں اگر منافقت کی کوئی سرحد مقرر کی جائے تو شاید عالمی سیاست اس سے کئی میل آگے نکل جائے۔ یہاں قاتل امن کے پیامبر قرار پاتے ہیں، اور غلام لیڈر ’’دوراندیش رہنما‘‘ کہلاتے ہیں۔ طاقتور کی مسکراہٹ کو سفارت سمجھا جاتا ہے اور کمزور کی غیرت کو ضد۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس منافقانہ نظام کی ایک علامت ہے، اور شہباز شریف اس کے خوشامدانہ سیاسی کردار کی ایک زندہ مثال۔ ٹرمپ وہ شخص ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو تیل کی آگ میں جھونکا۔ جس کے دور میں اسرائیل کی جارحیت کو قانون اور فلسطینی مزاحمت کو جرم قرار دیا گیا۔ اس نے ’’ابراہم معاہدوں‘‘ کے نام پر مسلم دنیا کے دل میں خنجر گھونپا اور پھر اسے امن کا نام دے دیا۔ اس نے ایران پر ایسی معاشی پابندیاں لگائیں جنہوں نے لاکھوں انسانوں کو غربت، بھوک اور موت کے کنارے پہنچا دیا۔ لیکن مغربی دنیا کے نزدیک وہ امن کا علمبردار ہے — کیونکہ اس نے جنگیں جیتی نہیں، بیچیں۔
اب ذرا دوسری طرف دیکھیے، جہاں پاکستان کا وزیر ِاعظم مغربی طاقتوں کی خوشنودی کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنائے بیٹھا ہے۔ شہباز شریف کی سیاست میں خودداری نہیں، صرف ڈپلومیٹک مسکراہٹ ہے۔ ان کے نزدیک سفارت کاری کا مطلب یہ ہے کہ طاقتور کو خوش رکھو، چاہے اس کے ظلم پر خاموشی ہی کیوں نہ اختیار کرنی پڑے۔ مغربی رہنما کی ایک تصویر کے نیچے ’’پرامن تعلقات‘‘ لکھ دینا ان کے نزدیک کامیاب خارجہ پالیسی ہے۔
یہ وہی سوچ ہے جو پاکستان کو ایک خوددار قوم سے بدل کر ایک تابع ریاست بنا چکی ہے۔ کبھی ہم امت ِ مسلمہ کے ترجمان کہلاتے تھے، آج ہمیں عالمی سیاست میں ایک کمزور آواز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے قومی وقار کو مغربی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ قرض، امداد اور تصویری مسکراہٹ — بس یہی تین عناصر اب ہماری خارجہ پالیسی کے ستون بن چکے ہیں۔
شہباز شریف کی سیاست کا جوہر چاپلوسی ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ’’سب کے لیے قابل ِ قبول‘‘ ہیں، اور بیرونی طاقتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ’’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ یہی وہ دوغلاپن ہے جو قومی عزت کو کھا گیا۔ کبھی ٹرمپ کی چاپلوسی، کبھی بائیڈن کی تعریف، کبھی آئی ایم ایف کے سامنے جھکاؤ۔ ہر جگہ وہی لہجہ، وہی عاجزی، وہی مسکراہٹ جو عزت نہیں، ضرورت کی علامت بن چکی ہے۔ یہ عجب تضاد ہے کہ جس ملک کا سربراہ اپنی قوم کو مہنگائی، بدامنی اور بدعنوانی سے نجات نہ دلا سکا، وہ دنیا کو امن کا درس دینے نکلتا ہے۔ جس نے اپنے عوام کو انصاف نہیں دیا، وہ عالمی انصاف کی بات کرتا ہے۔ جس نے اپنے ملک میں اداروں کو غلام بنا رکھا ہے، وہ دنیا میں جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے۔ چاپلوسی اب ہمارے نظام کا جزوِ لازم بن چکی ہے۔ ہم نے اپنے حکمرانوں کو سکھا دیا ہے کہ ’’خودداری نقصان دیتی ہے‘‘ اور ’’جھک جانا دانشمندی ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے سامنے خاموشی اب پالیسی بن چکی ہے۔ فلسطین میں بچوں کے لاشے گر رہے ہوں، کشمیر میں عورتیں چیخ رہی ہوں، مگر ہماری وزارتِ خارجہ کے بیان میں ’’تشویش‘‘ سے آگے کچھ نہیں۔ کیونکہ طاقتور ناراض ہو سکتا ہے۔
یہ وہی سوچ ہے جس نے پاکستان کو ایک کردار سے محروم ملک بنا دیا۔ اب ہماری سیاست محض اقتدار کی دوڑ ہے، اور ہماری خارجہ پالیسی محض امداد کے گرد گھومتی ہے۔ شہباز شریف جیسے حکمران اسی نظام کے نمائندے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی چاپلوسی ہی ترقی کا راستہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاپلوسی کبھی عزت نہیں دلاتی، صرف وقتی مسکراہٹیں دیتی ہے۔
ٹرمپ کی جنگی معیشت اور شہباز کی چاپلوسی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ ایک نے خون بیچا، دوسرے نے ضمیر۔ ایک نے تباہی سے ڈالر کمائے، دوسرے نے غلامی سے تعریف۔ دونوں نے انسانیت کا سودا کیا۔ صرف قیمت کا فرق تھا۔ مغربی دنیا کے سامنے سر جھکانے والوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ عزت دی جاتی ہے، مانگی نہیں جاتی۔ جو قوم اپنی خودداری کھو دیتی ہے، وہ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو یہ سبق نہیں سکھایا کہ قومیں چاپلوسی سے نہیں، جرأت سے بنتی ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ترقی کا مطلب قرض ہے، اور خارجہ پالیسی کا مطلب اطاعت۔ چاپلوسی کا یہ وائرس صرف سیاست تک محدود نہیں۔ یہ بیوروکریسی، میڈیا، حتیٰ کہ عام رویوں تک پھیل چکا ہے۔ جو طاقتور کی تعریف کرے، وہ ’’سمجھدار‘‘ کہلاتا ہے۔ جو سچ بولے، وہ ’’انتہا پسند‘‘ یا ’’غیر ذمے دار‘‘ قرار پاتا ہے۔ یہ وہ ذہنی غلامی ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ٹرمپ جیسے لیڈر دنیا کو دھوکے میں رکھتے ہیں، مگر شہباز جیسے رہنما اپنے عوام کو۔ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کو ’’امن‘‘ کے نام پر جلایا، اور شہباز نے پاکستان کو ’’ترقی‘‘ کے نام پر گروی رکھا۔ دونوں کے چہرے مختلف، مگر ارادے ایک جیسے ہیں۔ طاقت کے سامنے جھکنا اور کمزوروں کو قربان کر دینا۔
آج پاکستان کو اصل خطرہ بیرونی دشمنوں سے نہیں، بلکہ اندرونی غلامی سے ہے۔ ہم نے اپنی زبان سے پہلے اپنی سوچ کو غلام بنا لیا ہے۔ ہم اب یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ’’نہیں‘‘۔ ہر فیصلہ واشنگٹن، لندن یا دبئی کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ ہماری قیادت کی خودمختاری اب ایک تاثر سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ وہی وقت ہے جب ایک قوم کو خود سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یا ہم نے آزادی کو پروٹوکول کے بدلے بیچ دیا ہے؟ جب حکمرانوں کے لیے عزت کا معیار عالمی تصویریں اور بیرونی مبارکبادیں ہوں، تو سمجھ لیجیے کہ قوم غلامی کے دورِ جدید میں داخل ہو چکی ہے۔ چاپلوسی وقتی فائدہ دیتی ہے، مگر دائمی نقصان۔ جو لیڈر طاقتور کی خوشنودی کے لیے اپنی قوم کی عزت بیچ دیتا ہے، وہ تاریخ میں کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔ شہباز شریف کو شاید اقتدار مل جائے، بیرونی تعریف بھی، مگر تاریخ میں ان کا نام ایک خوددار رہنما کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خوشامدی سیاستدان کے طور پر لکھا جائے گا۔
یہ قوم جب تک چاپلوسی کو سیاست کا فن سمجھتی رہے گی، تب تک خودداری خواب ہی رہے گی۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ مغرب کی تقلید سے نہیں، اپنے وقار کی حفاظت سے ترقی ہوتی ہے۔ طاقتور کے آگے جھکنے والے کبھی طاقتور نہیں بن سکتے۔ دنیا کے سیاسی منظرنامے پر آج بھی وہی چیری بلاسم کھلا ہوا ہے۔ خوبصورت، مگر ہمیشہ جھکا ہوا۔ یہ درخت طاقتور کی ہوا کے ساتھ جھولتا ہے، مگر اپنی جڑوں سے غافل ہے۔ شہباز شریف اسی چیری بلاسم کی طرح ہیں۔ ہر موسم میں مسکراتے ہوئے جھکنے والے، مگر اپنی مٹی سے کٹے ہوئے۔ آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے: ٹرمپ نے جنگوں سے کمائی کی، اور شہباز شریف نے ان جنگوں کے تاجروں کو سلامی دی۔ ایک نے بارود بیچا، دوسرے نے ضمیر۔ دونوں نے امن کے نام پر انسانیت کا سودا کیا اور ہم اب بھی تالی بجا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی پاکستان کو شہباز شریف طاقتور کی اور شہباز کے نام پر کے سامنے نے اپنے دیتی ہے دنیا کے ہیں کہ چکی ہے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی