Jasarat News:
2026-06-03@03:21:31 GMT

جنگوں کا سوداگر، چاپلوسی کا تاج

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میر بابر مشتاق
دنیا میں اگر منافقت کی کوئی سرحد مقرر کی جائے تو شاید عالمی سیاست اس سے کئی میل آگے نکل جائے۔ یہاں قاتل امن کے پیامبر قرار پاتے ہیں، اور غلام لیڈر ’’دوراندیش رہنما‘‘ کہلاتے ہیں۔ طاقتور کی مسکراہٹ کو سفارت سمجھا جاتا ہے اور کمزور کی غیرت کو ضد۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس منافقانہ نظام کی ایک علامت ہے، اور شہباز شریف اس کے خوشامدانہ سیاسی کردار کی ایک زندہ مثال۔ ٹرمپ وہ شخص ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو تیل کی آگ میں جھونکا۔ جس کے دور میں اسرائیل کی جارحیت کو قانون اور فلسطینی مزاحمت کو جرم قرار دیا گیا۔ اس نے ’’ابراہم معاہدوں‘‘ کے نام پر مسلم دنیا کے دل میں خنجر گھونپا اور پھر اسے امن کا نام دے دیا۔ اس نے ایران پر ایسی معاشی پابندیاں لگائیں جنہوں نے لاکھوں انسانوں کو غربت، بھوک اور موت کے کنارے پہنچا دیا۔ لیکن مغربی دنیا کے نزدیک وہ امن کا علمبردار ہے — کیونکہ اس نے جنگیں جیتی نہیں، بیچیں۔

اب ذرا دوسری طرف دیکھیے، جہاں پاکستان کا وزیر ِاعظم مغربی طاقتوں کی خوشنودی کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنائے بیٹھا ہے۔ شہباز شریف کی سیاست میں خودداری نہیں، صرف ڈپلومیٹک مسکراہٹ ہے۔ ان کے نزدیک سفارت کاری کا مطلب یہ ہے کہ طاقتور کو خوش رکھو، چاہے اس کے ظلم پر خاموشی ہی کیوں نہ اختیار کرنی پڑے۔ مغربی رہنما کی ایک تصویر کے نیچے ’’پرامن تعلقات‘‘ لکھ دینا ان کے نزدیک کامیاب خارجہ پالیسی ہے۔

یہ وہی سوچ ہے جو پاکستان کو ایک خوددار قوم سے بدل کر ایک تابع ریاست بنا چکی ہے۔ کبھی ہم امت ِ مسلمہ کے ترجمان کہلاتے تھے، آج ہمیں عالمی سیاست میں ایک کمزور آواز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے قومی وقار کو مغربی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ قرض، امداد اور تصویری مسکراہٹ — بس یہی تین عناصر اب ہماری خارجہ پالیسی کے ستون بن چکے ہیں۔

شہباز شریف کی سیاست کا جوہر چاپلوسی ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ’’سب کے لیے قابل ِ قبول‘‘ ہیں، اور بیرونی طاقتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ’’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ یہی وہ دوغلاپن ہے جو قومی عزت کو کھا گیا۔ کبھی ٹرمپ کی چاپلوسی، کبھی بائیڈن کی تعریف، کبھی آئی ایم ایف کے سامنے جھکاؤ۔ ہر جگہ وہی لہجہ، وہی عاجزی، وہی مسکراہٹ جو عزت نہیں، ضرورت کی علامت بن چکی ہے۔ یہ عجب تضاد ہے کہ جس ملک کا سربراہ اپنی قوم کو مہنگائی، بدامنی اور بدعنوانی سے نجات نہ دلا سکا، وہ دنیا کو امن کا درس دینے نکلتا ہے۔ جس نے اپنے عوام کو انصاف نہیں دیا، وہ عالمی انصاف کی بات کرتا ہے۔ جس نے اپنے ملک میں اداروں کو غلام بنا رکھا ہے، وہ دنیا میں جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے۔ چاپلوسی اب ہمارے نظام کا جزوِ لازم بن چکی ہے۔ ہم نے اپنے حکمرانوں کو سکھا دیا ہے کہ ’’خودداری نقصان دیتی ہے‘‘ اور ’’جھک جانا دانشمندی ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے سامنے خاموشی اب پالیسی بن چکی ہے۔ فلسطین میں بچوں کے لاشے گر رہے ہوں، کشمیر میں عورتیں چیخ رہی ہوں، مگر ہماری وزارتِ خارجہ کے بیان میں ’’تشویش‘‘ سے آگے کچھ نہیں۔ کیونکہ طاقتور ناراض ہو سکتا ہے۔

یہ وہی سوچ ہے جس نے پاکستان کو ایک کردار سے محروم ملک بنا دیا۔ اب ہماری سیاست محض اقتدار کی دوڑ ہے، اور ہماری خارجہ پالیسی محض امداد کے گرد گھومتی ہے۔ شہباز شریف جیسے حکمران اسی نظام کے نمائندے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی چاپلوسی ہی ترقی کا راستہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاپلوسی کبھی عزت نہیں دلاتی، صرف وقتی مسکراہٹیں دیتی ہے۔

ٹرمپ کی جنگی معیشت اور شہباز کی چاپلوسی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ ایک نے خون بیچا، دوسرے نے ضمیر۔ ایک نے تباہی سے ڈالر کمائے، دوسرے نے غلامی سے تعریف۔ دونوں نے انسانیت کا سودا کیا۔ صرف قیمت کا فرق تھا۔ مغربی دنیا کے سامنے سر جھکانے والوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ عزت دی جاتی ہے، مانگی نہیں جاتی۔ جو قوم اپنی خودداری کھو دیتی ہے، وہ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو یہ سبق نہیں سکھایا کہ قومیں چاپلوسی سے نہیں، جرأت سے بنتی ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ترقی کا مطلب قرض ہے، اور خارجہ پالیسی کا مطلب اطاعت۔ چاپلوسی کا یہ وائرس صرف سیاست تک محدود نہیں۔ یہ بیوروکریسی، میڈیا، حتیٰ کہ عام رویوں تک پھیل چکا ہے۔ جو طاقتور کی تعریف کرے، وہ ’’سمجھدار‘‘ کہلاتا ہے۔ جو سچ بولے، وہ ’’انتہا پسند‘‘ یا ’’غیر ذمے دار‘‘ قرار پاتا ہے۔ یہ وہ ذہنی غلامی ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ٹرمپ جیسے لیڈر دنیا کو دھوکے میں رکھتے ہیں، مگر شہباز جیسے رہنما اپنے عوام کو۔ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کو ’’امن‘‘ کے نام پر جلایا، اور شہباز نے پاکستان کو ’’ترقی‘‘ کے نام پر گروی رکھا۔ دونوں کے چہرے مختلف، مگر ارادے ایک جیسے ہیں۔ طاقت کے سامنے جھکنا اور کمزوروں کو قربان کر دینا۔

آج پاکستان کو اصل خطرہ بیرونی دشمنوں سے نہیں، بلکہ اندرونی غلامی سے ہے۔ ہم نے اپنی زبان سے پہلے اپنی سوچ کو غلام بنا لیا ہے۔ ہم اب یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ’’نہیں‘‘۔ ہر فیصلہ واشنگٹن، لندن یا دبئی کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ ہماری قیادت کی خودمختاری اب ایک تاثر سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ وہی وقت ہے جب ایک قوم کو خود سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یا ہم نے آزادی کو پروٹوکول کے بدلے بیچ دیا ہے؟ جب حکمرانوں کے لیے عزت کا معیار عالمی تصویریں اور بیرونی مبارکبادیں ہوں، تو سمجھ لیجیے کہ قوم غلامی کے دورِ جدید میں داخل ہو چکی ہے۔ چاپلوسی وقتی فائدہ دیتی ہے، مگر دائمی نقصان۔ جو لیڈر طاقتور کی خوشنودی کے لیے اپنی قوم کی عزت بیچ دیتا ہے، وہ تاریخ میں کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔ شہباز شریف کو شاید اقتدار مل جائے، بیرونی تعریف بھی، مگر تاریخ میں ان کا نام ایک خوددار رہنما کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خوشامدی سیاستدان کے طور پر لکھا جائے گا۔

یہ قوم جب تک چاپلوسی کو سیاست کا فن سمجھتی رہے گی، تب تک خودداری خواب ہی رہے گی۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ مغرب کی تقلید سے نہیں، اپنے وقار کی حفاظت سے ترقی ہوتی ہے۔ طاقتور کے آگے جھکنے والے کبھی طاقتور نہیں بن سکتے۔ دنیا کے سیاسی منظرنامے پر آج بھی وہی چیری بلاسم کھلا ہوا ہے۔ خوبصورت، مگر ہمیشہ جھکا ہوا۔ یہ درخت طاقتور کی ہوا کے ساتھ جھولتا ہے، مگر اپنی جڑوں سے غافل ہے۔ شہباز شریف اسی چیری بلاسم کی طرح ہیں۔ ہر موسم میں مسکراتے ہوئے جھکنے والے، مگر اپنی مٹی سے کٹے ہوئے۔ آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے: ٹرمپ نے جنگوں سے کمائی کی، اور شہباز شریف نے ان جنگوں کے تاجروں کو سلامی دی۔ ایک نے بارود بیچا، دوسرے نے ضمیر۔ دونوں نے امن کے نام پر انسانیت کا سودا کیا اور ہم اب بھی تالی بجا رہے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی پاکستان کو شہباز شریف طاقتور کی اور شہباز کے نام پر کے سامنے نے اپنے دیتی ہے دنیا کے ہیں کہ چکی ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ