پاکستان اور چین کا دیگر شعبوں کی طرح خلائی تحقیق میں تعاون مثالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے زمین کے مدار میں پاکستانی سیٹلائٹ کو کامیابی سے بھیجنے پر سائنس دانوں اور انجینئروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کا دیگر شعبوں کی طرح خلائی تحقیق میں تعاون مثالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی راکٹ لیجیان-1 کے ذریعے پاکستان کے سیٹلائیٹ کے زمین کے مدار میں کامیابی سے بھیجے جانے پر پاکستانی خلائی سائنس دانوں اور انجینئیروں کی پزیرائی کی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کا باقی شعبوں کی طرح خلائی تحقیق میں تعاون مثالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے، اس مثالی تعاون کے لیے اپنے عظیم و دیرینہ دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار چین کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے دل چینی قیادت اور چینی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں، خلا میں بھیجا جانے والا سیٹلائیٹ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور جغرافیائی تغیر کے بارے میں تحقیق میں مدگار ثابت ہوگا۔
کو ئی مسافر کھانا، پانی یا چہل قدمی کیلیے نیچے اترا ہو اورگاڑی کی روانگی تک اپنے ٹھکانے پر واپس نہ پہنچ سکا ہو تو زنجیر کھینچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے مقابلہ کرنے میں یہ پیش رفت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ سیٹلائٹ سے زراعت، ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے شعبوں میں قومی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اور چین
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔