دارالحکومت کو اسلام آباد سے لاہور منتقل کیا جائے: سابق چیئرمین ایف بی آر کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
لاہور: سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے تجویز دی ہےکہ دارالحکومت کو اسلام آباد سے لاہور منتقل کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے لاہور کے مقامی آڈیٹوریم میں اپنی آٹو بائیوگرافی “32 آنکر روڈ”کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
شبر زیدی نے تسلیم کیا کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات نہیں لاسکے۔انہوں نے مذہبی جماعتوں کی سیاست پر پابندی لگانےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ لاہور کمیونسٹوں اور نیشنلسٹوں کا شہر تھا، لبرل عناصرکو ختم کرکے اسے تباہ کیا گیا۔
اس موقع پر مقررین نے شبر زیدی کی آٹو بائیوگرافی کو ایک ایمان دار، صاف گو اورکھرے شخص کی کتاب قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ شبر زیدی نے اپنی کتاب میں ملک کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچےکی خامیوں کو اجاگرکیا ہے۔
سابق گورنر اسٹیٹ بینک اورپنجاب کےسابق قائم مقام وزیر خزانہ شاہد حفیظ کاردار نےکہا کہ آئی ایم ایف مسائل کی جڑ ہے، ایف بی آر کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔