data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے کے سابق وزرا تاحال سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر سرکاری گھروں میں بھی مقیم ہیں۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد نئی کابینہ ابھی تک تشکیل نہیں دی گئی لیکن سابق وزرا آج بھی سرکاری گاڑیوں میں اسمبلی آ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سابق وزراء اب بھی سرکاری گھروں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں؟

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے ایک ماہ تک صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی، جس کے بعد ایوان نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے رکن خود وزیراعلیٰ بھی ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایوان کی کمیٹی کا فوری اجلاس بلایا جائے اور عسکری حکام کو بھی اس میں شریک کیا جائے۔

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ  تبدیلی ضرور ہونی چاہیے لیکن وہ بہتر کے لیے ہو، محض سیاسی دکھاوے کے لیے نہیں،  ہم اسرائیل کی کسی بھی قسم کی حمایت نہیں کرتے، مگر آج ایوان میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کے دوران غیر متعلقہ سیاسی باتیں کی گئیں، دلیل سے بات کرنی چاہیے، گالم گلوچ سے نہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پہلی مرتبہ پابندی تحریک انصاف کے دور حکومت میں لگی تھی،  اُس وقت کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ریاست سے کوئی ٹکراؤ نہ کرے  اور اس موقع پر بانی چیئرمین عمران خان کی تقاریر سننے سے بہت کچھ واضح ہوجاتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ  وزیراعلیٰ کا آج پہلا دن ہے، میں ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا،  ہمارے لیڈر نے کبھی اداروں کے خلاف نہیں کہا، بلکہ خود بانی چیئرمین نے کہا تھا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر نے کہا

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف