ٹماٹر مرغی سے بھی زیادہ مہنگا ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2025ء) ٹماٹر مرغی سے بھی زیادہ مہنگا ہو گیا، سبزیوں کی قیمتیں بے قابو، افغانستان سے ٹماٹر کی آمد بند ہونے اور پنجاب سے سپلائی محدود ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق راچی میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جب کہ مرغی کا گوشت 450 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں اور گلی محلوں میں ٹماٹر 450 سے 550 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب ہے۔ دکانداروں کے مطابق افغانستان سے ٹماٹر کی آمد بند ہونے اور پنجاب سے سپلائی محدود ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت کراچی میں ٹماٹر کی 90 فیصد طلب ایرانی ٹماٹر سے پوری کی جا رہی ہے، تاہم اس کی رسد بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔(جاری ہے)
ضلعی انتظامیہ نے ٹماٹر کے سرکاری نرخ 280 روپے فی کلو مقرر کیے ہیں، مگر بچت بازاروں سمیت عام مارکیٹوں میں دکاندار سرکاری نرخوں پر فروخت سے انکار کر رہے ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ منڈی سے ٹماٹر مہنگا ملنے کی وجہ سے وہ سستا فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اگر انتظامیہ چاہتی ہے کہ سرکاری نرخ پر فروخت ہو تو پہلے منڈی میں جا کر نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بچت بازار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر دکاندار سرکاری نرخوں پر عمل نہیں کرسکتے تو انہیں فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹماٹر کی فی کلو
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔