ٹماٹر کی قیمت سن کر شہریوں کے چہرے سرخ ،فی کلو 700 روپے تک جاپہنچا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
فیڈرل بی ایریامیں 650، گلشن اقبال، برنس روڈ میں 700 روپے کلو میں فروخت
322 روپے سرکاری نرخمقرر ،انتظامی نااہلی ، دکانداروں نے مہنگائی کا بازار گرم کردیا
ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں اور ٹماٹر کی قیمت سن کر شہریوں کے چہرے سرخ ہوگئے ہیں۔کراچی سمیت ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔شہر قائد میں ٹماٹر مرغی کے گوشت سے بھی مہنگا ہوگیا۔ انتظامی نااہلی کی وجہ سے دکانداروں نے مہنگائی کا بازار گرم کررکھا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں 500 سے 700 روپے کلو میں ٹماٹرفروخت ہونے لگا۔سرکاری نرخ کے مطابق ٹماٹر کی قیمت 322 روپے مقرر ہے۔فیڈرل بی ایریامیں ٹماٹر650روپے کلو، گلشن اقبال، برنس روڈ میں ٹماٹر700 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔شہید بینظیر آباد کی تحصیل سکرنڈ میں ٹماٹر رواں سال کی بلند ترین سطح 600 روپے کلو پر پہنچ گیا،ٹماٹر کی اونچی اڑان نے شہریوں کو مشکل میں ڈال دیا۔دوسری جانب فیصل آباد میں انتظامی نااہلی کی وجہ سے دکانداروں نے مہنگائی کا بازار گرم کررکھا ہے۔ مٹر اور ٹماٹر 500 روپے کلو میں فروخت ہورہے ہیں۔پشاور میں سبزیوں کے نرخوں کو پر لگے گئے ہیں۔ ٹماٹرنے سچری ،ڈبل اور ٹرپل سنچری کے بعد چوتھی سنچری بھی عبور کرلی ۔ پیاز نے بھی سنچری پار کرلی ۔ بھنڈی ،ٹینڈا ،کدو تورئی کوئی بھی سبزی ڈیڑھ 100 روپے کلو سے کم پر دستیاب نہیں ہے۔ کوئٹہ میں ٹماٹر 300 روپے فی کلو میں فروخت کیاجارہا ہے۔ مٹرکی قیمت 400روپے فی کلوتک پہنچ گئی۔ شہر میں دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کلو میں فروخت ٹماٹر کی قیمت روپے کلو میں میں ٹماٹر
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔