غیر قانونی پٹاخوں کا کاروبار عروج پر ،انتظامیہ خاموش
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251020-11-19
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) میرپورخاص میں بغیر لائسنس غیر قانونی پٹاخوں کا کاروبار عروج پر انتظامیہ خاموش، شہری خطرے میں چار مینار کے قریب غیر قانونی پٹاخوں کا گودام انتظامیہ کی خاموشی کے سبب شہریوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ، تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہر کے وسطی کاروباری علاقے نیو ٹاؤن میں غیر قانونی طور پر انتہائی خوفناک آواز والے پٹاخوں کی کھلے عام فروخت عروج پر پہنچ چکی ہے پولیس زرائع کے مطابق چار مینار چوک سے متصل نیو ٹاؤن میں کورئیر آفس ٹی سی ایس کے سامنے ایک نجی ہوٹل میں خوفناک آواز والے دھماکے دار پٹاخوں کا ایک بہت بڑا گودام موجود ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے مالیت کے پٹاخے غیر قانونی طور پر فروخت کیے جا رہے ہیں باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی گودام اور پٹاخوں کی فروخت کا کوئی بھی لائسنس نا ہونے کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی چشم پوشی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر کن بااثر شخصیات کی سرپرستی میں یہ خطرناک کاروبار اتنی دیدہ دلیری سے جاری ہیشہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے گنجان علاقے جہاں دن رات ہزاروں لوگ خریداری کے لیے موجود رہتے ہیں ان پٹاخوں کے ذخیرے سے کسی بھی وقت خطرناک دھماکہ یا حادثہ پیش آ سکتا ہے جو کسی بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے تاہم متعلقہ محکمے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال خاموش دکھائی دے رہے ہیں عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر، ایس ایس پی ، اسسٹنٹ کمشنر اور کسٹم حکام فوری طور پر نوٹس لیں اور گوداموں میں موجود پٹاخوں کے ذخیرے کو ضبط کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں، تاکہ کسی بڑے سانحے سے قبل خطرے کو روکا جا سکے سوال یہ ہے کہ میرپورخاص میں اتنی بڑی مقدار میں غیر قانونی خوفناک پٹاخے کس کے آشیر واد سے فروخت ہو رہے ہیں اور اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ گیا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پٹاخوں کا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.