ہائبرڈ نظام نے عوام کو انصاف سے محروم کر دیا، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر اور ناظم اجتماع عام لاہور، لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی سے ہی ملک بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے، طاقت کے زور پر چلایا جانے والا ہائبرڈ نظام کسی آئین یا قانون کا پابند نہیں۔ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور ایم کیو ایم جیسی جماعتیں ہائبرڈ نظام کی چھتری تلے صرف چند بیرونی دوروں کے موقع پر راضی ہیں، حالانکہ 26ویں ترمیم نے عدلیہ کا سر قلم کر کے عوام کو انصاف سے محروم کر دیا ہے۔
ادارہ نور حق کراچی میں شہر بھر کے ناظمین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے تو سول اور ملٹری بیوروکریسی اس کو پر کرنے کے لیے اپنا گھوڑا جوت دیتی ہے، یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ اختلافات کے باوجود قوم بھارت کے حملے پر متحد ہوگئی، مگر عوام کو طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنے کا خیال درست نہیں۔ گمشدگیاں اور صوبوں کے حقوق غصب کرنا ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور بھارت پاکستان کے دوست نہیں، اسی طرح یہ دونوں افغانستان کے بھی خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ دوحہ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاہم طالبان اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ لیاقت بلوچ نے بتایا کہ لاہور میں 21 تا 23 نومبر ہونے والا اجتماع عام جماعت اسلامی کی تاریخ کا 16واں اجتماع ہوگا، جو “بدل دو نظام” کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماع عام محض پاور شو نہیں بلکہ قرآن و سنت کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس موقع پر کراچی کے ہر سطح کے ناظمین کو ذمہ داریاں سونپی گئیں جبکہ 50 سے زائد شعبہ جات اور 14 نائب ناظمین مقرر کیے گئے ہیں۔ اجتماع میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہی ہے، شہر میں پانی، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبے بدترین صورتحال کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی جعلی مینڈیٹ سے میئر شپ پر قابض ہے لیکن جماعت اسلامی اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی عوام کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق دو کراچی کو مہم مزید تیز کی جائے گی تاکہ شہریوں کو ان کے حقوق دلائے جا سکیں۔ اجلاس میں جمعیت اتحاد العلماء کراچی کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الوحید نے درسِ قرآن پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔