WE News:
2026-06-02@23:29:20 GMT

حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کے 12 غیر ملکی عملے کو رہا کردیا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کے 12 غیر ملکی عملے کو رہا کردیا

اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا میں قید رکھے گئے 12 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بدھ کے روز حوثی باغیوں نے رہا کر دیا ہے جبکہ 3 دیگر اہلکاروں کو اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔

مذکورہ اہلکار گزشتہ ہفتے کے آخر میں حوثیوں کی جانب سے حراست میں لیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق، 12 بین الاقوامی اہلکار صنعا سے اقوام متحدہ کی ایک انسانی پرواز کے ذریعے روانہ ہوئے، جن میں سے کچھ اپنا کام جاری رکھنے کے لیے اردن منتقل ہو گئے ہیں۔

تاہم، 50 سے زائد اقوام متحدہ کے دیگر ملازمین اب بھی حوثیوں کی قید میں ہیں، جن کے ساتھ مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور سفارتی مشن کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ تمام سطحوں پر اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ صنعا میں متعلقہ حکام، رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تمام قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

’ہم ایک بار پھر سیکریٹری جنرل کی اپیل دہراتے ہیں کہ انہیں فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔‘

حوثیوں نے اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کے خلاف طویل عرصے سے سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

باغی گروہ نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے اہلکار جاسوس ہیں، جس کی اقوام متحدہ نے سختی سے تردید کی ہے۔

یہ گرفتاریوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے ہفتہ کے روز صنعا میں اقوام متحدہ کے ایک اور دفتر پر چھاپہ مارا، تاہم وہاں موجود تمام عملہ محفوظ رہا۔

اتوار کو جن اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ان میں 5 یمنی اور 15 بین الاقوامی اہلکار شامل تھے۔

بعد ازاں حوثیوں نے 11 دیگر اہلکاروں کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق باغیوں نے چھاپے کے دوران دفتر سے تمام مواصلاتی آلات، بشمول فون، سرورز اور کمپیوٹر ضبط کر لیے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ گرفتار شدگان کا تعلق اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سے تھا، جن میں ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسیف اور دفتر برائے ہم آہنگی انسانی امور شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 31 اگست کو بھی حوثیوں نے صنعا میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ مار کر 19 ملازمین کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں یونیسیف کے نائب ڈائریکٹر کو رہا کر دیا گیا۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اس ہفتے ایران، یمن اور سعودی عرب کے وزرا خارجہ اور رہنماؤں سے بھی بات کی ہے تاکہ اقوام متحدہ کے عملے کی رہائی کے لیے ان کی مدد حاصل کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ انتونیو گوتیریس حوثی باغی رہائی سیکریٹری جنرل صنعا یمن یونیسیف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انتونیو گوتیریس رہائی سیکریٹری جنرل یونیسیف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل حوثیوں نے کے مطابق رہا کر

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟