UrduPoint:
2026-06-03@03:51:16 GMT

اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 21 اکتوبر 2025ء) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے تازہ عزم حوصلہ افزا ہے، تاہم تشدد کے حالیہ واقعات اس نازک پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے تعاون سے ملبہ صاف کرنے کے بڑے منصوبے پر عمل جاری ہے۔

تنازع کے فریقین کی جانب سے جنگ بندی پر عملدرآمد کے عزم کی تجدید خوش آئند ہے اور ادارہ اس ضمن میں ثالثی کرنے والوں کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ Tweet URL

ترجمان نے کہا کہ غزہ میں حالیہ پرتشدد واقعات اور گزشتہ روز زمینی و فضائی حملے تشویش ناک ہیں۔

(جاری ہے)

فریقین اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ ہو۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی جائیں۔

'انروا' کے سکول پر حملہ

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انروا' کے کمشنر جنرل، فلپ لازارینی نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی افواج کی جانب سے نصیرت پناہ گزین کیمپ میں ادارے کے سکول پر گولہ باری کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

یہ سکول پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایسی پناہ گاہوں سمیت ادارے کی تقریباً 300 عمارتوں پر حملوں 800 سے زیادہ لوگ ہلاک اور تقریباً 2,600 زخمی ہو چکے ہیں۔

کمشنر جنرل نے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی پامالی قرار دیا اور ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو دہراتے ہوئے ان کے ذمہ داروں سے جواب طلبی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

طبی و ماحولیاتی خطرات

غزہ میں کوڑا کرکٹ کی بھاری مقدار جمع ہو جانے کے باعث صحت اور ماحول کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور علاقے میں کوڑا کرکٹ کی تلفی کے دو مرکزی مقامات تک عدم رسائی کے باعث ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ان حالات میں رہائشی علاقوں اور بے گھر افراد کی پناہ گاہوں کے قریب کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے بیسیوں عارضی مقامات سے بیماریاں پھیلنے اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

© UNICEF/Mohammed Nateel ملبے کی صفائی

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امدادی امور ٹام فلیچر نے غزہ کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے امدادی کارکنوں سے ملاقات کی اور اقوام متحدہ کے تعاون سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا جن میں بچوں کی غذائیت کا مرکز، ایک ہسپتال اور سڑک کی صفائی کا منصوبہ شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے غزہ شہر میں ملبہ ہٹانے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد ہسپتالوں اور سکولوں جیسی بنیادی خدمات تک رسائی کو بحال کرنا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ادارے کے نمائندے جیکو سیلیئرز کے مطابق، غزہ میں ملبہ صاف کرنا آسان کام نہیں جس کی مقدار تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ سے 6 کروڑ ٹن کے درمیان ہے۔

'یو این ڈی پی' سڑکوں کی صفائی اور ملبے کے مواد کو ری سائیکل کر کے نئی آمد و رفت کے راستے اور عارضی سہولیات تعمیر کرے گا۔ اس کام کا آغاز غزہ شہر کے علاقے الجلا سٹریٹ سے ہوا ہے جہاں بھاری مشینری کے ذریعے وہ راستے کھولے جا رہے ہیں جو کئی ماہ سے بند تھے۔

جیکو سیلیئرز نے خبردار کیا ہے کہ یہ نہایت مشکل اور طویل کام ہے جس کی تکمیل میں کئی سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

انسانی امداد میں اضافہ

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے تحت انسانی امداد کا حجم بڑھانے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 'انروا' نے عارضی تعلیمی مراکز میں توسیع کی ہے جبکہ شراکتی امدادی تنظیموں نے دیر البلح اور خان یونس میں خوراک کی تقسیم کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا کہ اتوار کو پہلی مرتبہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کو کسوفیم کے سرحدی راستے پر نگران تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ خوش آئند پیش رفت ہے جس سے اس امدادی راستے پر بہتر نگرانی اور شفافیت یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ © UNFPA Palestine مقبوضہ فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ۔

آباد کاروں کا تشدد

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں 7 سے 13 اکتوبر کے درمیان آبادکاروں کے 71 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ کارروائیاں ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب علاقے میں زیتون کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ ان حملوں میں 27 فلسطینی دیہات میں زیتون چننے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا، ان کی فصلوں اور زرعی آلات کو چوری کیا گیا اور زیتون کے درختوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

ایسے واقعات میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ٹام فلیچر نے اتوار کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں نے مغربی کنارے کی صورتحال کے علاوہ غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی ضروریات، جنگ بندی برقرار رکھنے کی اہمیت اور دیرپا امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے بتایا ہے کہ کہ غزہ میں

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت