شہریوں کو پالیسیوں سے لاعلم رکھنا جمہوری اصولوں کیخلاف: ہائیکورٹ: ناصر باغ درختوں کی کٹائی پر انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری انکوائری ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ماحولیاتی تدارک سموگ کیس کی سماعت کے دوران ایئر کوالٹی بہتر ہونے پر اظہارِ اطمینان کیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ بڑے وہیکل یونٹس کے خلاف کریک ڈائون اور حکومتی اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں، جبکہ شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی۔ عدالت نے سموگ میں کمی کے لیے سکولوں میں موسمِ سرما کی چھٹیوں میں کم از کم دو ہفتوں کی توسیع اور ہفتے کے روز بھی سکول بند رکھنے کی تجویز دے دی۔ عدالت نے اتوار کے روز کمرشل فری ڈے پر بھی غور کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی اور درختوں کی منتقلی کے غیر واضح طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناصر باغ معاملے کی مکمل انکوائری کے لیے ایک اعلیٰ افسر تعینات کیا جائے۔ خصوصی ٹیم تشکیل دے کر تمام حقائق کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ درختوں کی منتقلی سے متعلق رپورٹ پر بھی عدالت نے عدم اطمینان ظاہر کیا اور پی ایچ اے سے تمام منتقل شدہ درختوں کی درست تعداد، ذمہ داران اور آئندہ کے تحفظ سے متعلق تفصیلی خط طلب کر لیا۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے آگاہ کیا کہ شہر میں 52 میاواکی فارسٹ لگائے جا چکے ہیں، جبکہ مختلف اداروں کی گاڑیوں کے معائنے اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کو پالیسیوں سے لاعلم رکھنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔ عدالت نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر جامع اور مکمل رپورٹس جمع کرائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔