طلاق 90 دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)طلاق نوے دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی،خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلاشرط دیا ہوتو بیوی کوطلاق واپس لینے کا حق بھی حاصل ہے،سپریم کورٹ نے محمد حسن سلطان کی اپیل مسترد کر دی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس شفیع صدیقی نے 12صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریرکیا،شادی کے بعد میاں بیوی نیویارک میں رہائش پذیر تھے، بیوی 2023 میں بیٹی کے ساتھ نیویارک سے کراچی واپس آگئی تھی۔
سپریم کے فیصلےمیں کہاگیا کہ بیوی نے 3جولائی 2023 کوکراچی سےشوہرکوطلاق کا نوٹس جاری کیا تھا، بیوی نے 10 اگست 2023 کوطلاق کانوٹس واپس لینےکی درخواست جمع کروائی تھی،یونین کونسل نے 90 روز پورے نہ ہونے پرطلاق کی قانونی کارروائی ختم کر دی تھی،بیوی کے نوٹس واپس لینےپرشوہر نے طلاق کا نوٹس دینےکیلئے یونین کونسل سے رجوع کیا،یونین کونسل نے شوہرکی درخواست دائرہ اختیار نہ ہونے پر خارج کی تھی۔اعلی عدلیہ کےفیصلے کے مطابق یونین کونسل نےکہا کہ خاتون اب نیویارک میں ہے لہٰذا کراچی میں کارروائی کا اختیارنہیں بنتا،یونین کونسل نےقراردیاکہ طلاق کی کارروائی پاکستان مشن نیویارک کے ذریعےہونی چاہیے تھی،پاکستان کا قانون بیوی کے 90 دن کے اندرطلاق واپس لینےکودرست تسلیم کرتا ہے، بیوی کی نیویارک میں فائل کردہ درخواست کا پاکستان کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر نے یونین کونسل کےفیصلے کےخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے،سندھ ہائی کورٹ نے یونین کونسل کے دونوں فیصلوں کو درست قرار دے کر درخواست مسترد کر دی تھی۔
مستقبل کے حوالے سے تبصروں کے بجائے اپنی فٹنس اور پرفارمنس پر توجہ دیں، بھارتی بورڈ کا روہت شرما کو واضح پیغام
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یونین کونسل نے طلاق کا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس