کراچی (نیوزڈیسک) صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کو دو لخت نہیں کیا جا رہا بلکہ آئی سی سی بی ایس کو اسناد تقویض کرنے والا ادارہ بنانے کی تجویز ہے جو حتمی نہیں ہے۔

آج کراچی کے مقامی ہوٹل میں انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی بی ایس کے معاملے میں جامعہ کراچی کے اساتذہ، ملازمین، ڈونرز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا، اسی لیے اس کا بل چارٹر انسپیکشن کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ سب کو اعتماد میں لے کر ادارے کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔

اجلاس سے آئی بی سی سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح، وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر اکرام علی نے اس موقع پر سندھ کے تمام بورڈز کے لیے ای مارکنگ سسٹم دینے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس حوالے سے ناظمِ امتحانات کی تربیت بھی کرا چکے ہیں۔ فقیر محمد لاکھو نے بتایا کہ 2026ء کے سالانہ امتحانات میں نویں اور گیارہویں جماعت کی ای مارکنگ کی جائے گی۔

اجلاس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا کہ شفاف امتحانات کے لیے ای مارکنگ سسٹم اپنایا جائے گا، موجودہ نظام میں نتائج کی تیاری میں تاخیر ہوتی ہے، تاہم ای مارکنگ سے یہ عمل تیز اور مؤثر ہو گا، بعض بورڈز نے پہلے ہی کچھ پرچوں کی ای مارکنگ شروع کر دی ہے۔

وزیر نے بتایا کہ سوالات کی تیاری اور جانچ پڑتال کے تمام مراحل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور بورڈ کے معاملات جدید سسٹم کے مطابق چلائے جائیں گے، اس کے علاوہ 70 سے 80 ہزار اساتذہ کی تقرری مکمل کر دی گئی ہے اور اسکولوں میں بچوں کو واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کسی بھی اقدام میں جامعہ کراچی کے خلاف نہیں جائے گی اور محکمۂ قانون کی تجاویز کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز کو صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

میٹرک بورڈ کراچی میں خواتین کو ہراساں کرنے والے گریڈ 18 کے افسر نوید گجر کی دوبارہ بطور سیکریٹری تعیناتی پر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا، اگر ایس بارے میں کوئی تحقیقات چل رہی ہیں تو سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ اور چیئرمین بورڈ تحقیقات مکمل کرائیں اور اگر الزام ثابت ہوا تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔

اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کو وفاقی تعلیمی بورڈز نے ای مارکنگ سسٹم فراہم کر دیا ہے جب کہ سندھ کے بورڈز میں مستقل ناظم امتحانات اور سیکریٹریز کی تعیناتیاں جلد میرٹ پر ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش