وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لیے ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست شعیب گھمن نامی وکیل کی جانب سے جمع کرائی گئی۔
درخواست گزار بے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر، وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وزیرِ دفاع اور وزیرِ قانون نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ آئینی ترمیم کا ساتھ دینے والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، وکلا کنونشن میں جوڈیشل پیکج کے خلاف قرارداد منظور
درخواست کے مطابق مذکورہ بالا افراد نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جو ’سنگین غداری‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
لہٰذا ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا تقاضا کرتے ہوئے درخواست گزار نے اسی سلسلے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف بھی آئینی کارروائی کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عام انتخابات کے عمل اور اس کی شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
مزید پڑھیں: آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کا حکم نامہ جاری، رجسٹرار سپریم کورٹ کو جسٹس منیب اختر کو راضی کرنے کی ہدایت
’جو یہ طے کرے کہ انتخابات شفاف تھے یا نہیں۔ مزید یہ کہ فیصلے تک سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو نگران وزیراعظم جبکہ جسٹس(ر) منصور علی شاہ کو قائم مقام صدرِ پاکستان مقرر کیا جائے۔‘
درخواست گزار کے مطابق کسی بھی سرکاری عہدیدار کو استثنیٰ دینا اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی سلب کی گئی اور یہ اقدام آئین سے انحراف کے مترادف ہے، جو آرٹیکل 6 کے تحت قابلِ سزا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جس پر آئندہ دنوں میں کارروائی کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیکل 6 تحقیقاتی کمیشن شعیب گھمن وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیکل 6 تحقیقاتی کمیشن شعیب گھمن وفاقی آئینی عدالت آرٹیکل 6 کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :