طلاق 90دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ)کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔

بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/ آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں نامعلوم شخص کا حملہ، خنجر کے وار سے اے ایس آئی شہید اسلام آباد میں نامعلوم شخص کا حملہ، خنجر کے وار سے اے ایس آئی شہید پہلا بین الاقوامی مقابلہ حسن قرات، ملائیشیا کے قاری نے پہلا انعام جیت لیا افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار شفقت محمود نے عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کر دی :سینیٹ کمیٹی چیئرمین کی تحسین جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے: جسٹس جواد حسن مستند دستاویزات رکھنے والے کسی مسافر کو بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جائے گا، وزیر داخلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی مدت پوری سپریم کورٹ

پڑھیں:

پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے  پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر تاریخی فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ ریاست کی طاقت رکھنے والے ادارے کسی بھی صورت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور نہ ہی زیر حراست افراد پر ظلم، بدسلوکی یا تشدد کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں سنایا جس میں چند پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تمام عمل کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔

عدالت عظمیٰ نے اس پس منظر میں نہ صرف پولیس اہلکاروں کی اپیلیں مسترد کر دیں بلکہ تفصیلی فیصلے کے ذریعے اصولی طور پر یہ بات بھی طے کر دی کہ کسی شہری کو، چاہے وہ کسی جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، ریاستی تحویل میں غیر قانونی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

7 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا کہ انسانی زندگی کا حق بنیادی ترین حق ہے اور آئینِ پاکستان ہر شہری کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جب قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتا ہے، اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے اس کی جان یا عزت کو نقصان پہنچے، تو یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض اوقات پولیس تشدد ماورائے عدالت قتل کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ انتہائی سنگین جرم ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پولیس کو گرفتاری کا مکمل اختیار ضرور حاصل ہے لیکن یہ اختیار آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور گرفتار شخص کو اس کی گرفتاری کی وجہ سے بھی لازماً آگاہ کیا جائے۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاستی اداروں کو ہر حال میں شہریوں کی عزت، آزادی اور قانونی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر انسانی سلوک، ذلت آمیز رویہ، بربریت یا زبردستی اعترافِ جرم کرانے کا عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔

فیصلے میں اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ پولیس کے اندر موجود غلط رویوں کو روکنے کے لیے موثر، بیرونی اور مخصوص نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال رہے اور ریاست کی رٹ برقرار رہے۔

عدالت نے کہا کہ زریاب خان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ثبوت ہے کہ بعض اہلکار اپنے عہدے کو ذاتی اختیار سمجھ لیتے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی نہ صرف ضروری ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی بھی ہے۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس محکمہ اپنے اندر سے ایسے عناصر کا خاتمہ نہ کرے تو شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر مجروح ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طلاق 90 دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
  • 3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن پورے ہونے تک مؤثر نہیں ہوتی: سپریم کورٹ
  • پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
  • پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
  • طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ