ٹنڈوجام،نوجوان کی عدم بازیابی پر اہل خانہ کا احتجاجی کیمپ قائم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) ٹنڈو جام سے لاپتا ہونے والے نوجوان کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کردیا میرا بھائی بے گناہ ہے اور اس نے کو ئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، ضمیر میرانی۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام کے قریب ٹنڈو قیصر سے 22 اگست کو لاپتا کیے گئے نوجوان امیر میرا نی کی بازیابی کے لیے سندھ سبھا کی اپیل پر ورکشاپ اسٹاپ میاں وا کی پارک میں 48 گھنٹوں کے لیے لاپتا نوجوان کے ورثا نے احتجاجی کیمپ قائم کردیا ہے احتجاجی کیمپ میں گمشدہ نوجوان کے بھائی ضمیر میرا نی، سندھ سبھا کے مرکزی رہنما شبیرسندھی اور متعدد کارکنوں نے شرکت کی ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 22 اگست کو ویگو گاڑی میں سوار نامعلوم افراد امیر میرا نی کو بے گناہ اغوا کرکے لے گئے۔ جس کے حوالے سے ہائی کورٹ حیدرآباد میں پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے ۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام اور انسانی حقوق کے ادارے فوری نوٹس لیں اور بے گناہ لاپتا کیے گئے امیر میرا نی کو رہا کیا جائے۔ لاپتا نوجوان کے بھائی ضمیر میرا نی نے بتایا کہ‘‘میرے بھائی کو دو ماہ قبل بغیر کسی مقدمے کے اٹھایا گیا ہے اور اب تک اس کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔ صدمے کے باعث میری والدہ کو بے ہوشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اگر امیر میرا نی پر کوئی مقدمہ درج ہے تو قانون کے مطابق گرفتاری ظاہر کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ شبیر سندھی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو غائب کرنے سلسلہ مسلسل جاری ہے سندھ کے نوجوانوں کو اغوا کرکے اور لاپتا کرکے سندھ کے لیے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی پیپلزپارٹی اور اس کے ساتھی ہماری آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اگر 48گھنٹوں میں امیر عمرانی کے متعلق نہیں بتایا گیا تو پھر ہم ان کی بازیابی کے لیے پورے سندھ میں احتجاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احتجاجی کیمپ کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔