علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ چوتھی بار جاری، عدالت کا گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف عدالت نے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں جمعہ 24 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ عدالت نے ان کی عدم پیشی پر سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
عدالت نے اس بار سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کو ہدایت کی ہے کہ وہ علیمہ خان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔ سماعت کے دوران علیمہ خان کے ضامن محمد شریف عدالت میں موجود تھے، جنہوں نے ایک لاکھ روپے کی ضمانتی گارنٹی جمع کرا رکھی ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے ضامن کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
عدالتی حکم کے مطابق علیمہ خان کی غیر حاضری کے باعث کارروائی مسلسل مؤخر ہو رہی تھی، جس پر عدالت نے اس بار سخت رویہ اختیار کیا اور پولیس کو حکم دیا کہ وارنٹ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ انہیں مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب وہ اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کے لیے گئیں تو پولیس نے انہیں گورکھپور ناکے پر روک دیا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہمارے وارنٹ تو روز جاری ہوتے ہیں، مگر ہمیں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ علیمہ خان نے بتایا کہ 7 اپریل سے عمران خان سے ملاقات مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جو کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، مگر ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو روز قانون توڑتے ہیں، مگر انہیں کبھی سزا نہیں ملتی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی انتہائی تشویشناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔