اسلام ٹائمز: ہم پاکستانی شیعہ طلاب و علماء دین، جامعۃ الرشید کے اس موقف کی سخت مذمت کرتے ہیں، جو انقلاب اسلامی اور تشیع کی فروغ وحدت امت کے لیے کوششوں اور قربانیوں کی عظمت کو مجروح کرتا ہے۔ ہم اسے پرامن بقائے باہمی اور امت اسلامی کی وحدت کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعۃ الرشید اپنے بیانات میں وحدت اسلامی کے تقاضوں کا خیال رکھے۔ تحریر: محمد احمد فاطمی

کراچی پاکستان کے اہل سنت (دیوبندی) کے دینی مدرسوں میں سے ایک ممتاز درسگاہ "جامعۃ الرشید" کے مدیر مفتی عبدالرحیم صاحب نے ایک بیان میں انقلاب اسلامی ایران پر بے بنیاد اتہامات عائد کیے ہیں۔ مفتی صاحب کا دعویٰ ہے کہ 1980ء کی دہائی میں ایران کے اسلامی انقلاب نے پاکستان میں "تبریٰ" کے فروغ اور شیعہ سنی فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دی ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب انقلاب اسلامی ایران نے ہمیشہ وحدت امت اسلامی کی ترویج اور تمام مسالک کے مقدسات کے احترام کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔

ایران کی اسلامی حکومت نے عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ عملی اقدامات کیے ہیں، نیز اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ اس وقت بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سالوں میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے رئیس محترم آیت اللہ ڈاکٹر علی عباسی نے امام خمینیؒ اور امام خامنہ ایؓ کی وحدت امت اسلامی کے افکار کی ترویج کے مقصد سے پاکستان کے اپنے دوروں کے دوران جامعہ الرشید کا دورہ کیا تھا اور مفتی عبدالرحیم سے ملاقات کرکے پرخلوص گفتگو کی تھی۔

ہم پاکستانی شیعہ طلاب و علماء دین، جامعۃ الرشید کے اس موقف کی سخت مذمت کرتے ہیں، جو انقلاب اسلامی اور تشیع کی فروغ وحدت امت کے لیے کوششوں اور قربانیوں کی عظمت کو مجروح کرتا ہے۔ ہم اسے پرامن بقائے باہمی اور امت اسلامی کی وحدت کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعۃ الرشید اپنے بیانات میں وحدت اسلامی کے تقاضوں کا خیال رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی جامعۃ الرشید امت اسلامی اسلامی کے کرتے ہیں

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت