سعودی عرب، کرپشن ، اختیارات کا ناجائز استعمال، 17 سرکاری اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں احتساب و انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہہ) کی کارروائی کے دوران مختلف وزارتوں اور اداروں کے 17 سرکاری اہلکاروں کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق گرفتار اہلکاروں پر رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خورد برد جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔اتھارٹی کے بیان کے مطابق وزارت صنعت و معدنی وسائل کے ایک اہلکار نے ایک غیر ملکی سرمایہ کار کی کمپنی کو غیر قانونی طور پر کرشر لائسنس جاری کرنے کے لیے مبینہ طور پر 16 لاکھ سعودی ریال رشوت لی۔ایک اور سعودی شہری کو 85 ہزار ریال وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا جو مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار ریال کی طے شدہ رشوت کا حصہ تھا، تاکہ ایسی زرعی زمین کے خلاف ڈمولیشن آرڈر منسوخ کرایا جاسکے جس کی کوئی ملکیتی دستاویز موجود نہیں تھی۔ اسی علاقے میں دو بلدیاتی اہلکاروں کو بھی اسی نوعیت کی رشوت لینے پر حراست میں لیا گیا۔ایک اور کیس میں ایک گورنریٹ میونسپلٹی کے ملازم کو 1 لاکھ 95 ہزار ریال رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو اس نے ایک تجارتی ادارے کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دینے کے بدلے میں وصول کیے تھے۔اسی طرح وزارتِ دفاع کے ایک افسر کو بھی گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر خواتین سے ملازمت دلانے کے وعدے پر رقم وصول کرتا تھا۔نزاہہ نے مزید بتایا کہ زکوٰة، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے ایک اہلکار کو ائیرپورٹ پر متعدد کسٹم خلاف ورزیوں کے انکشاف کے بعد حراست میں لیا گیا۔اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ نزاہہ بدعنوانی کے خاتمے کے اپنے مشن پر قائم ہے اور جو بھی سرکاری عہدے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے گا اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، چاہے وہ عہدہ چھوڑ چکا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔