Jasarat News:
2026-07-24@02:36:18 GMT

ٹریفک پولیس اختیارات ختم ہونے کے باوجود لوٹ مار میں مصروف

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-02-12
کراچی (رپورٹ/ محمد علی فاروق) سندھ اسمبلی سے حال ہی میں منظور ہونے والے بل کے بعد ٹریفک پولیس کے تمام عدالتی و قانونی اختیارات ختم ہو چکے ہیں تاہم کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک اہلکار آج بھی شہریوں کی گاڑیاں روک کر مبینہ طور پر رشوت خوری اور لوٹ مار میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2002ء سے قبل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار صرف مجسٹریٹس کے پاس تھا۔ اس وقت ٹریفک پولیس اہلکار محض معاونت کیلیے مجسٹریٹس کے ہمراہ کھڑے ہوتے اور جرمانے یا قانونی کارروائی مجسٹریٹ کے دستخط سے ہی ممکن ہوتی تھی۔ سندھ اسمبلی سے قانون میں ترمیم کے بعد یہ اختیارات ٹریفک پولیس کو منتقل کیے گئے، جنہیں حال ہی میں ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ٹریفک اہلکار شہر کے مختلف مقامات پر گاڑیاں روک کر شہریوں سے رشوت طلب کر رہے ہیں۔ اہلکار اب بھی سابقہ اختیار کو استعمال کر تے ہوئے گاڑیاں بند کرتے ہیں اور رشوت طلب کرتے ہیں، بعض اوقات شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کردیتے ہیں جبکہ اس طرح کے اختیارات کو واپس لے لیا گیا ہے اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت ٹریفک پولیس کو صرف دفعہ 341 (راہ میں رکاوٹ یا ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے) تک کارروائی کا محدود اختیار حاصل ہے۔ ان کے پاس کسی شہری کی گاڑی ضبط کرنے، ایف آئی آر درج کرانے یا چالان کرنے کا کوئی قانونی اختیار باقی نہیں رہا۔ ذرائع کے مطابق لنک روڈ ٹریفک سیکشن کا اہلکار سرفراز ایم-9 موٹروے سے گلشن حدید جانے والی سڑک پر سمندری بابا کے مزار کے سامنے کھڑا ہوکر گاڑیوں سے رشوت وصول کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقام کا ’ٹھیکا‘ ماہانہ 5 ہزار روپے میں دیا گیا ہے۔ اسی طرح ماڈل کالونی کے شوکت عباسی، نیو سبزی منڈی، شاہ لطیف ٹاؤن، گلشن حدید، ابراہیم حیدری، عوامی کالونی، لانڈھی، انڈسٹریل ایریا، سعید آباد، بلدیہ ٹاؤن، ماڑی پور، لیاری اور شارع فیصل کے متعدد پوائنٹس پر بھی اہلکار شہریوں کو روک کر رشوت لینے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈی ایس پی لیاقت آباد زبیر اسلام نے ناظم آباد نمبر 2 کے پل کے نیچے اور لیاقت آباد 10 نمبر پر کرپشن کا منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جہاں روزانہ شام 5 سے 6 بجے کے درمیان مزدہ، ٹرک، واٹر ٹینکرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں سے رقم وصول کی جاتی ہے۔ صبح کے اوقات میں بھی یہی سلسلہ لیاقت آباد سے تین ہٹی تک جاری رہتا ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ علاقے کے ٹھیلے پتھارے داروں سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رقم جمع کی جاتی ہے، جو مبینہ طور پر اسلم بیٹر نامی شخص کے ذریعے ڈی ایس پی کے ڈرائیور تک پہنچائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی زبیر اسلام نے علاقے کے ایک انٹرسٹی وین اڈا مالک کو ہدایت دی ہے کہ ’’منتھلی‘‘ (ماہانہ رقم) صرف انہی کے ہاتھ میں دی جائے۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی جانب سے 10 روز قبل چھٹی پر جانے سے پہلے ڈی ایس پی زبیر اسلام کے ڈرائیور ہیڈ کانسٹیبل عمران کا تبادلہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں کردیا گیا تھا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس ڈی ایس پی گیا ہے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا