Jasarat News:
2026-06-03@01:10:49 GMT

ٹریفک پولیس اختیارات ختم ہونے کے باوجود لوٹ مار میں مصروف

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-02-12
کراچی (رپورٹ/ محمد علی فاروق) سندھ اسمبلی سے حال ہی میں منظور ہونے والے بل کے بعد ٹریفک پولیس کے تمام عدالتی و قانونی اختیارات ختم ہو چکے ہیں تاہم کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک اہلکار آج بھی شہریوں کی گاڑیاں روک کر مبینہ طور پر رشوت خوری اور لوٹ مار میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2002ء سے قبل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار صرف مجسٹریٹس کے پاس تھا۔ اس وقت ٹریفک پولیس اہلکار محض معاونت کیلیے مجسٹریٹس کے ہمراہ کھڑے ہوتے اور جرمانے یا قانونی کارروائی مجسٹریٹ کے دستخط سے ہی ممکن ہوتی تھی۔ سندھ اسمبلی سے قانون میں ترمیم کے بعد یہ اختیارات ٹریفک پولیس کو منتقل کیے گئے، جنہیں حال ہی میں ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ٹریفک اہلکار شہر کے مختلف مقامات پر گاڑیاں روک کر شہریوں سے رشوت طلب کر رہے ہیں۔ اہلکار اب بھی سابقہ اختیار کو استعمال کر تے ہوئے گاڑیاں بند کرتے ہیں اور رشوت طلب کرتے ہیں، بعض اوقات شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کردیتے ہیں جبکہ اس طرح کے اختیارات کو واپس لے لیا گیا ہے اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت ٹریفک پولیس کو صرف دفعہ 341 (راہ میں رکاوٹ یا ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے) تک کارروائی کا محدود اختیار حاصل ہے۔ ان کے پاس کسی شہری کی گاڑی ضبط کرنے، ایف آئی آر درج کرانے یا چالان کرنے کا کوئی قانونی اختیار باقی نہیں رہا۔ ذرائع کے مطابق لنک روڈ ٹریفک سیکشن کا اہلکار سرفراز ایم-9 موٹروے سے گلشن حدید جانے والی سڑک پر سمندری بابا کے مزار کے سامنے کھڑا ہوکر گاڑیوں سے رشوت وصول کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقام کا ’ٹھیکا‘ ماہانہ 5 ہزار روپے میں دیا گیا ہے۔ اسی طرح ماڈل کالونی کے شوکت عباسی، نیو سبزی منڈی، شاہ لطیف ٹاؤن، گلشن حدید، ابراہیم حیدری، عوامی کالونی، لانڈھی، انڈسٹریل ایریا، سعید آباد، بلدیہ ٹاؤن، ماڑی پور، لیاری اور شارع فیصل کے متعدد پوائنٹس پر بھی اہلکار شہریوں کو روک کر رشوت لینے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈی ایس پی لیاقت آباد زبیر اسلام نے ناظم آباد نمبر 2 کے پل کے نیچے اور لیاقت آباد 10 نمبر پر کرپشن کا منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جہاں روزانہ شام 5 سے 6 بجے کے درمیان مزدہ، ٹرک، واٹر ٹینکرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں سے رقم وصول کی جاتی ہے۔ صبح کے اوقات میں بھی یہی سلسلہ لیاقت آباد سے تین ہٹی تک جاری رہتا ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ علاقے کے ٹھیلے پتھارے داروں سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رقم جمع کی جاتی ہے، جو مبینہ طور پر اسلم بیٹر نامی شخص کے ذریعے ڈی ایس پی کے ڈرائیور تک پہنچائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی زبیر اسلام نے علاقے کے ایک انٹرسٹی وین اڈا مالک کو ہدایت دی ہے کہ ’’منتھلی‘‘ (ماہانہ رقم) صرف انہی کے ہاتھ میں دی جائے۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی جانب سے 10 روز قبل چھٹی پر جانے سے پہلے ڈی ایس پی زبیر اسلام کے ڈرائیور ہیڈ کانسٹیبل عمران کا تبادلہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں کردیا گیا تھا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس ڈی ایس پی گیا ہے

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی