فلسطینیوں سے اظہار یکجتی کا عالمی دن آج منایا جائیگا ، غزہ امن معاہدے میں تعمیری کرادار کیا : صفر وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی‘ خبرنگار خصوصی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا عالمی دن آج 29 نومبر کو منایا جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت اور پاکستانی عوام‘ غیر متزلزل عزم و یکجہتی کے ساتھ اپنے فلسطینی بھائی اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ دنیا کو غزہ میں ظلم و ستم کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارہ (West Bank) کی سنگین صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہیے جہاں پر غیر قانونی بستیوں کی توسیع‘ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور امن و سلامتی کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان فلسطین کے لیے منصفانہ‘ دیرپا اور جامع حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کی منشاء کے مطابق ہو۔ پاکستان اپنے بھرپور تعاون اور فلسطینی عوام کی جائز حقوق کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ صدر زرداری نے بین الاقوامی یوم یکجہتیِ فلسطین پر پیغام میں کہا کہ بین الاقوامی یوم یکجہتیِ فلسطین کے موقع پر میں بہادر فلسطینی عوام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ پاکستان، فلسطین کے ساتھ اپنے دیرینہ اور قریبی برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑا رہا ہے۔ فلسطینیوں کے لئے ہماری حمایت انسانیت، انصاف اور برابری کی بنیادی اقدار پر قائم ہے۔ پاکستان اور فلسطین کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کا ساتھ دیا ہے۔ غزہ امن معاہدے میں بھی پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، اس امید کے ساتھ کہ اسرائیلی ظلم و جارحیت سے فلسطینی عوام پر ڈھائے گئے ناقابل تصور دکھوں کا خاتمہ ہو سکے گا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب عالمی برادری کے لیے یہ ناگزیر بن چکا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے اور غزہ میں حالیہ جنگ بندی کو پائیدار و منصفانہ امن میں تبدیل کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں