ڈی آئی خان میں پولیس موبائل پر بم حملہ، 3 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پشاور+لاہور+ بنوں +اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+نامہ نگار+خبر نگار خصوصی+نمائندہ خصوصی) ڈی آئی خان میں پولیس موبائل پر بم حملے کے نتیجے میں 3 اہل کار شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پنیالہ میں پولیس موبائل پر بم دھماکا ہوا ہے، جس میں 3 پولیس اہل کار شہید ہو گئے ہیں، جن میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور ڈرائیور سخی جان شامل ہیں جب کہ دھماکے میں کانسٹیبل آزاد شاہ محفوظ رہے۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ تیارزہ کی حدود توروام مارکیٹ کے مقام پر پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جس سے ایک اہل کار زخمی ہوگیا۔ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی سے نامعلوم دہشت گرد فرار ہو گئے جب کہ زخمی اہل کار امام حسین کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر فتنۃ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 3 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے شہید اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور سخی جان کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپی کے پولیس کے بہادر سپوتوں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ڈی آئی خان میں پولیس موبائل پر بم دھماکے کے واقعے کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہر بھر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام پولیس یونٹس کو حفاظتی اقدامات مزید بڑھانے کی ہدایات جاری کیں۔ جس پر شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کو مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے اور داخل ہونے والی گاڑیوں و افراد کی سخت جانچ پڑتال جاری ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے فیلڈ میں موجود جوانوں کو الرٹ رہنے اور محفوظ طریقے سے فرائض کی انجام دہی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ لُنڈرک بنوں پولیس چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ کواڈ کاپٹر ڈرون سے گرایا گیا۔ بم پولیس چوکی پر پھٹ نہیں سکا۔اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق صدرِ زرداری نے ڈی آئی خان میں پولیس وین پر حملے میں جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خان میں پولیس موبائل پر میں پولیس موبائل پر بم ڈی ا ئی خان میں پولیس اہل کار
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔