پاکستان کی اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پاکستان کی اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 22 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔دفتر خارجہ نے اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں قابض اسرائیلی افواج کے نئے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں شرم الشیخ میں مسلم و عرب ممالک، امریکہ، یورپ اور اقوام متحدہ کی قیادت کی موجودگی میں طے پانے والے امن معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے، جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ فلسطین کی آزاد، خود مختار، قابلِ عمل اور مربوط ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسربراہ پاک فضائیہ ظہیر بابر سدھو کا دورہ رومانیہ، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال سربراہ پاک فضائیہ ظہیر بابر سدھو کا دورہ رومانیہ، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال باجوڑ، سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں ایک دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی حالت میں فرار نجی مال میں خاتون کیساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ ، ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا دالبندین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 6دہشتگرد ہلاک بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے ڈیٹا اور نقشے مانگ لیے محسن نقوی کا پختونخوا حکومت سے واپس گاڑیاں بلوچستان کو دینے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امن معاہدے کی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔