امریکہ و فرانس کے سامنے "سفارتی آہ و زاری" بیکار ہے، حزب اللہ لبنان
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی محاذ کے سینیئر رکن نے لبنانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فریبکار امریکی حکومت اور اسکے جھوٹے گواہ فرانسیسیوں کے سامنے، جنگبندی کے بعد 10 ماہ سے زائد کے عرصے تک "سفارتی آہ و زاری" کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انہوں نے زمینوں کو آزاد کروایا ہے اور نہ ہی جارحیت کو روکا ہے اسلام ٹائمز۔ لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمت کے ساتھ وابستہ اتحاد "الوفاء للمقاومۃ" کے سینیئر رکن حسین جشی نے تاکید کی ہے کہ اسرائیل کے روز مرہ حملات کا تسلسل، لبنان کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اس دشمن کے اصرار کو ظاہر کرتا ہے جبکہ جعلی صیہونی رژیم جنگبندی کی تمام شقوں کو یکسر نظر انداز کرتی ہے۔ حسین جشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کی توسیع اور لبنانی بلڈوزروں، سویلین مشینری، کنکریٹ ٹینکوں اور جنوبی لبنان واٹر اتھارٹی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے ان ذخائر تک پر بمباری کہ جن میں 5 لاکھ لٹر ڈیزل کی گنجائش ہے، نیز سڑکوں پر چلتے عام شہریوں کو نشانہ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے متعلق دشمن کا دعوی جھوٹ کا پلندہ ہے۔
عرب چینل المنار کے مطابق الوفاء للمقاومۃ کے سینیئر رکن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی دشمن ان حملوں اور اس تمام منظر کے ذریعے ہمارے عوام پر دباؤ ڈالنا اور ہمارا ارادہ توڑنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ لبنان کو بالآخر مذاکرات اور معمول کے تعلقات استوار کرنے پر مجبور کر دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض دشمن پہلے مرحلے میں لبنان کو سلامتی و سیاست کے معاملے میں صیہونی پراجیکٹ کا زیر نگیں بنانا جبکہ دوسرے مرحلے میں وہ "اسرائیل کی تعمیر" کے بہانے "گریٹر اسرائیل" کے گھناؤنے منصوبے کے تحت لبنان کے ساتھ ساتھ پورے خطے پر مکمل قبضہ جما لینا چاہتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکی ایلچی، تھامس بارک نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ امن کی بات ایک "سراب" جبکہ اصلی مقصد "ہتھیار ڈلوانا" ہے نیز یہ کہ ایک گروہ (اسرائیل) "غلبہ" حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا دوسرے گروہ کو یہ یقین کر لینا چاہیئے کہ وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں لبنانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے حیسن جشی نے کہا کہ ان تمام حملوں کو "موقف میں اتحاد" کا باعث بننا چاہیئے تاکہ پہلی ترجیح "جارحیت کو روکنا" قرار پائے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔