data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شمالی کوریا نے بدھ کے روز بظاہر کئی کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، یہ واقعہ جنوبی کوریا میں ہونے والی اہم ایشیا پیسیفک رہنماؤں کی میٹنگ سے ایک ہفتہ قبل پیش آیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے  کی رپورٹ کے مطابق یہ پیانگ یانگ کی جانب سے مئی کے بعد پہلا بیلسٹک میزائل تجربہ تھا، جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد پابندیوں کو نظر انداز کیا ہے۔

یہ پہلا ایسا تجربہ بھی تھا جب سے لی جے میونگ جنوبی کوریا کے صدر منتخب ہوئے ہیں، جن کا منشور شمالی کوریا کے ساتھ رابطے بڑھانے پر مبنی ہے۔

لی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگلے ہفتے جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) فورم کے اجلاس کے دوران ملاقات متوقع ہے، ٹرمپ کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ہونے کی امید ہے۔

لی اور ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن سے ملاقات کے امکان پر بات کی ہے، جب امریکی صدر جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے، تاہم پیانگ یانگ کی طرف سے اس تجویز پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام نے غیررسمی طور پر غیر فوجی زون (ڈی ایم زیڈ) کے دورے پر غور کیا تھا، جو دونوں کوریاؤں کو جدا کرتا ہے، لیکن اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

جنوبی کوریا نے پانمنجوم کے بین الکوریائی گاؤں میں جوائنٹ سیکیورٹی ایریا (جے ایس اے) کے سیاحتی دورے نومبر کے اوائل تک معطل کر دیے ہیں، تاہم کِم سے ملاقات کے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ٹرمپ اور کِم جونگ اُن نے ٹرمپ کی 2017 سے 2021 کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 3 سربراہی ملاقاتیں کی تھیں، اور ایک دوسرے کو کئی خطوط لکھے تھے، جنہیں ٹرمپ نے ’خوبصورت‘ قرار دیا تھا، لیکن یہ غیرمعمولی سفارتی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب امریکا نے کِم سے اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔

ستمبر میں، کِم نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ’اچھی یادوں‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر واشنگٹن جوہری ہتھیاروں کی تنسیخ پر اصرار چھوڑ دے تو بات چیت میں کوئی قباحت نہیں، لیکن وہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے اپنے جوہری ہتھیار کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شمالی کوریا جنوبی کوریا

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف