ٹرمپ کا جنوبی کوریا کا دورہ؛ شمالی کوریا نے دورے سے قبل ہی بیلسٹک میزائل فائر کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی کوریا نے بدھ کے روز بظاہر کئی کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، یہ واقعہ جنوبی کوریا میں ہونے والی اہم ایشیا پیسیفک رہنماؤں کی میٹنگ سے ایک ہفتہ قبل پیش آیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ پیانگ یانگ کی جانب سے مئی کے بعد پہلا بیلسٹک میزائل تجربہ تھا، جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد پابندیوں کو نظر انداز کیا ہے۔
یہ پہلا ایسا تجربہ بھی تھا جب سے لی جے میونگ جنوبی کوریا کے صدر منتخب ہوئے ہیں، جن کا منشور شمالی کوریا کے ساتھ رابطے بڑھانے پر مبنی ہے۔
لی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگلے ہفتے جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) فورم کے اجلاس کے دوران ملاقات متوقع ہے، ٹرمپ کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ہونے کی امید ہے۔
لی اور ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن سے ملاقات کے امکان پر بات کی ہے، جب امریکی صدر جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے، تاہم پیانگ یانگ کی طرف سے اس تجویز پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام نے غیررسمی طور پر غیر فوجی زون (ڈی ایم زیڈ) کے دورے پر غور کیا تھا، جو دونوں کوریاؤں کو جدا کرتا ہے، لیکن اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
جنوبی کوریا نے پانمنجوم کے بین الکوریائی گاؤں میں جوائنٹ سیکیورٹی ایریا (جے ایس اے) کے سیاحتی دورے نومبر کے اوائل تک معطل کر دیے ہیں، تاہم کِم سے ملاقات کے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ٹرمپ اور کِم جونگ اُن نے ٹرمپ کی 2017 سے 2021 کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 3 سربراہی ملاقاتیں کی تھیں، اور ایک دوسرے کو کئی خطوط لکھے تھے، جنہیں ٹرمپ نے ’خوبصورت‘ قرار دیا تھا، لیکن یہ غیرمعمولی سفارتی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب امریکا نے کِم سے اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔
ستمبر میں، کِم نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ’اچھی یادوں‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر واشنگٹن جوہری ہتھیاروں کی تنسیخ پر اصرار چھوڑ دے تو بات چیت میں کوئی قباحت نہیں، لیکن وہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے اپنے جوہری ہتھیار کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا جنوبی کوریا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔