Islam Times:
2026-06-02@23:28:56 GMT

ایران کے خلاف جنگ کا آپشن ٹرمپ کی شکست کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

ایران کے خلاف جنگ کا آپشن ٹرمپ کی شکست کیوں؟

اسلام ٹائمز: لہذا ایران کی فوجی تنصیبات پر حملہ ور ہو کر بھی امریکہ کی پریشانی دور نہیں ہوئی اور اب یہ مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن اختیار کرنا نہ صرف ایک موثر راہ حل نہیں ہے بلکہ اس سے امریکہ کو درپیش حالات مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گے۔ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے بھی اسی نکتے کو واضح کیا ہے اور 20 اکتوبر کے دن رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام فوجی طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی پارلیمنٹ نے حکومت کو آئی اے ای سے تعاون پر نظرثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایران نے 12 روزہ جنگ کے بعد نئی جوہری تنصیبات تعمیر کر لی ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور محفوظ ہیں۔ تحریر: محمد امین ہدایتی نسب
 
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے دن ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دینے کے دعوے سے متعلق فرمایا تھا: "کوئی بات نہیں، تم اسی خیال میں ڈوبے رہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ تم کون ہوتے ہو جو کسی ایسے ملک کے بارے میں اظہار خیال کرو جو جوہری ٹیکنالوجی کا حامل ہے؟ اس کا امریکہ سے کیا تعلق ہے کہ ایران کے پاس جوہری ٹیکنالوجی ہے یا نہیں ہے؟ یہ مداخلت خلاف معمول، غلط اور جبر پر مبنی ہے۔" آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای یہ کہنا چاہتے تھے کہ امریکی صدر کے دعوے کے برعکس ایران کا جوہری پروگرام جوں کا توں ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے چار ماہ بعد اب ایران کے سپریم لیڈر نے اعلان کر دیا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ رہبر معظم انقلاب کے اس موقف کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ البتہ کچھ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس پر سوال بھی اٹھائے تھے۔ مثال کے طور پر سی این این اور وال اسٹریٹ جرنل نے امریکہ کے کچھ حکومتی اداروں کی رپورٹ کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مشکوک قرار دیا تھا۔ امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے این ایس اے نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں واضح طور پر ٹرمپ کا دعوی غلط ثابت کیا گیا تھا۔ سی این این کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملے کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام کا بنیادی ڈھانچہ تباہ نہیں ہوا اور اسے صرف جزوی نقصان پہنچا ہے۔
 
دوسری طرف روئٹرز اور نیویارک ٹائمز نے بھی اعلان کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو پائے ہیں۔ ان کی رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے اس حملے سے نہ صرف ایران کی جوہری تنصیبات کا انفرااسٹرکچر تباہ نہیں ہوا بلکہ افزودہ یورینیم بھی تباہ ہونے سے محفوظ بچ گیا ہے۔ یورپ کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے بھی اپنی رپورٹس میں اسی بات کی جانب اشارہ کیا ہے اور ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ یہ دھچکہ اس قدر سنگین تھا کہ امریکی وزیر جنگ پٹ ہیگسیٹ نے این ایس اے کے سربراہ جنرل جیفری کروز کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ نیویارک ٹائمز نے امریکی وزیر جنگ کے اس اقدام کے محرکات کے بارے میں لکھا: "این ایس اے کے سربراہ کی برطرفی کی وجہ اس ادارے کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں رپورٹ جاری کرنا تھا۔"
 
2)۔ ایران اور تین یورپی ممالک کے درمیان "اسنیپ بیک" سے متعلق انجام پانے والے مذاکرات میں مغربی فریق کے طرز عمل سے ظاہر گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ان کے مطالبات بھی دراصل وہی ہیں جو امریکہ چاہتا ہے۔ یورپی ممالک نے اسنیپ بیک روکنے کے لیے تین شرائط پیش کی تھیں: پہلی آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو امریکی حملے کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دینا، دوسری 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنا اور تیسری ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنا شامل تھی۔ البتہ مذاکرات کے دوران امریکہ نے کچھ نئے مطالبات بھی پیش کیے جیسے ایران کے پاس میزائلوں کی رینج 500 کلومیٹر سے کم کر دینا وغیرہ۔ یوں مغربی ممالک کے مطالبات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اب بھی باقی ہے اور امریکہ اسے ختم کرنے کے درپے ہے۔
 
اس سے ہمیں چند اہم پیغامات موصول ہوتے ہیں، جیسے: اول یہ کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے اگرچہ کچھ نقصانات ظاہر ضرور ہوئے ہیں لیکن این ایس اے کی رپورٹ کے مطابق اس کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ دوسرا یہ کہ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری مذاکرات کے دوران اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے سبز جھنڈی دکھائی لیکن وہ اب بھی ایران سے مذاکرات کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ ان کا اصل مقصد ایران پر فوجی دباو ڈال کر اسے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کر دینا ہے۔ لہذا اب یہ حقیقت سب کے لیے واضح ہو چکی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طریقہ کار جیسا کہ ٹرمپ سوچ رہا تھا بالکل بھی موثر واقع نہیں ہوا۔ یہ ایک بہت ہی اہم حقیقت ہے جس کی بنیاد پر ایران نے بھی اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کر رکھی ہے۔
 
لہذا ایران کی فوجی تنصیبات پر حملہ ور ہو کر بھی امریکہ کی پریشانی دور نہیں ہوئی اور اب یہ مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن اختیار کرنا نہ صرف ایک موثر راہ حل نہیں ہے بلکہ اس سے امریکہ کو درپیش حالات مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گے۔ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے بھی اسی نکتے کو واضح کیا ہے اور 20 اکتوبر کے دن رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام فوجی طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی پارلیمنٹ نے حکومت کو آئی اے ای سے تعاون پر نظرثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایران نے 12 روزہ جنگ کے بعد نئی جوہری تنصیبات تعمیر کر لی ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور محفوظ ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی جانب سے ایران کی جوہری ایران کا جوہری پروگرام رہبر معظم انقلاب روزہ جنگ کے بعد ہے کہ ایران کے ایران کے خلاف امریکی حملے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی پر حملے کے ایس اے امریکہ کے ایران نے نہیں ہو پہلے سے کیا ہے ہے اور کے لیے دیا ہے اور اس

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟