data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ کے ہمراہ کراچی میں بد امنی،مسلح ڈکیتیوں کی بڑھتی وارداتوں میں شہریوں کی اموات اورعوام کے دیگر مسائل کے حوالے سے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کی نااہلی و ناقص کارکردگی کے باعث کراچی کے عوام لاقانونیت و بد امنی ، بجلی وپانی کے بحران ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں او ر انفرااسٹرکچر کی تباہ حالی سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہیں ، 22 سال گزرنے کے باوجود کے فور منصوبہ مکمل نہ ہونا حکمرانوں کی نااہلی اور کراچی دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ٹی آئی سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور اہل کراچی کے مسائل کی ذمہ دار ہیں ،جماعت اسلامی نے ریڈ لائن منصوبے پر ایکشن کمیٹی تشکیل اور کیمپ آفس بھی قائم کردیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ افسران سے رابطے میں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کے اطراف کے کاروباری افراد کو معاوضہ دیا جائے، ملحقہ سڑکوں کی فوری استر کاری، مناسب یوٹرن فراہم اور منصوبہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ وفاقی حکومت پچھلے 20 سال میں کے الیکٹرک کو 900 ارب روپے ادا کرچکی ہے، 20سال قبل کے الیکٹرک کی نجکاری اس معاہدے کے تحت کی گئی تھی کہ بجلی کی فراہمی بہتر بنائی جائے گی، مگر آج بھی شہری 18، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیلنے پر مجبور ہیں۔ بجلی چوروں کی سزا پوری آبادی کو دینا نیپرا کے قوانین اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔بجلی چوروں کو پکڑنا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے، شہری تو بھاری بل دینے کے باوجود اندھیرے میں رہ رہے ہیں، کے الیکٹرک کی 50 ارب روپے کی بوگس بلنگ شہریوں پر ظلم ہے۔ رواں سال اسٹریٹ کرائم کی 47 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں 34 ہزار موٹر سائیکل اور 13 ہزار موبائل چھیننے گئے ۔بہت سے متاثرہ شہری رپورٹ تک درج نہیں کراتے۔ شہر میں لاقانونیت اور اسٹریٹ کرائمز میں خطرناک اضافہ ہوچکا ہے۔عوام کی جان و مال کا تحفظ نہیں ،شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں خود پولیس اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت تمام بلدیاتی ادارے شہریوں کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ قابض میئر کا 60 دن میں اہم شاہراہوں کی استرکاری کا وعدہ بھی زبانی جمع خرچ ثابت ہوا ہے۔ جماعت اسلامی اہلِ کراچی کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے ، کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دلانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔جماعت اسلامی نیپرا اور سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف بھی اہل کراچی کا مقدمہ لڑ رہی ہے، مگر عدالتوں میں کے الیکٹرک کے خلاف کیسز جان بوجھ کر تاخیر کا شکار بنائے جا رہے ہیں۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ جہانگیر روڈ، نئی کراچی 7000 فٹ روڈ اور ایم ایم عالم روڈ بدترین حالت میں ہیں، گاڑیاں الٹ رہی ہیں مگر سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔کراچی کی آدھی سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ صرف وعدوں اور بیانات تک محدود ہے۔ تین روز قبل نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن کی لائن پھٹنے سے صفورہ ٹاؤن، گلشن ٹاؤن، گلبرگ ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد اور لیاقت آباد کے وسیع علاقے پانی سے محروم ہوگئے ۔ حب کینال کے قیام کے باوجود ڈسٹرکٹ ویسٹ، کیماڑی، کورنگی، سائٹ اور نارتھ کراچی سمیت بیشتر علاقوں میں پانی کا بحران برقرار ہے۔انہوں نے کہاکہ کورنگی، آدم نگر، عمر کالونی، پی ای سی ایچ ایس، اورنگی ٹاؤن اور گلستانِ جوہر سمیت کئی علاقوں میں روزانہ طویل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو روزانہ 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن شہر کو بمشکل 650 ملین گیلن یومیہ پانی میسر ہے، جس میں لائنوں کے پھٹنے اور رساؤ کے باعث مزید کمی آ جاتی ہے۔وفاق نے کے فور کے لیے 40ارب روپے کے بجائے صرف 3.

2 ارب روپے کا بجٹ رکھا جو شہریوں کے ساتھ مذاق ہے۔26 کلو میٹر طویل ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہیں، پانی جمع ہے، شہری شدیدذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں۔ بارشوں کو ایک ماہ گزر چکا مگر یونیورسٹی روڈ کے کئی حصوں میں اب بھی پانی موجود ہے، سڑکیں تباہ اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے ،سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں، گٹر ابل رہے ہیں، سیوریج نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔پریس کانفرنس میں سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، ،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے ایم سی جنید مکاتی ،پبلک ایڈ کمیٹی کے سکریٹری نجیب ایوبی ،سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد، نائب صدر پبک ایڈ عمران شاہد،بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے الیکٹرک کا شکار رہے ہیں

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی