کراچی میں پانی کا بحران، ٹینکر سروس بھی بند، سپلائی کب بحال ہو گی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی واٹر کارپوریشن کی جانب سے شہر بھر میں مختلف پائپ لائنوں اور پمپنگ اسٹیشنز کی مرمت کے باعث پانی کی فراہمی میں شدید خلل پیدا ہوا ہے، جس سے متعدد علاقوں کو سخت پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن سے منسلک 11-کے لائن میں 48 انچ قطر کی مرکزی پائپ لائن میں لیکیج کے باعث سپلائی بند ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں تین پمپوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اس دوران، دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا ایک اور پمپ بھی مرمت کے لیے بند کر دیا گیا، جس سے شہر کو پانی کی فراہمی کا مجموعی نظام مزید متاثر ہوا ہے۔
پانی کی اس قلت سے شہر کے کئی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جن میں اسکیم 33، صفورا، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ، لیاقت آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ مرکزی لائنوں کی بندش کے باعث واٹر ٹینکر سروس بھی معطل کر دی گئی ہے، جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرمت کی وجہ سے روزانہ تقریباً 150 ملین گیلن پانی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہے۔
تاہم، حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مرمتی کام اگلے دس گھنٹوں میں مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد پانی کی فراہمی بتدریج بحال کی جائے گی۔ اس دوران واٹر کارپوریشن کی جانب سے متبادل ذرائع سے تقریباً 500 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری طرف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جاری پانی کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی “شہباز اسپیڈ” کے تحت اس سنگین مسئلے کو جلد از جلد حل کریں۔
حب کینال کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومتوں کو مل کر کراچی کے عوام کے لیے صاف اور وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کے صنعتی علاقوں کے لیے بھی پانی کی فراہمی بہتر بنانے کی غرض سے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔