UrduPoint:
2026-06-02@22:35:21 GMT
محکمہ صحت پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھا رہاہے، خواجہ سلمان رفیق
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اکتوبر2025ء) صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود خان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پانی سے پیداہونے والی بیماریوں کے تدار ک کیلئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس کے دوران ہڈیارہ ڈرین سمیت دیگر ڈرینزکی صفائی ستھرائی کا بھی جائزہ لیاگیا۔
ڈین آئی پی ایچ پروفیسرسائرہ افضل نے اس حوالے سے رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہڈیارہ ڈرین سمیت پورے لاہور کا سروے کروایا جائے گا۔اجلاس کے دوران اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ محکمہ صحت پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھا رہاہے۔(جاری ہے)
اس حوالے سے سینئر پروفیسرز و ماہرین کی سربراہی میں اعلی سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے۔
اس کمیٹی میں ضلعی انتظامیہ،واسا،محکمہ ماحولیات ودیگر متعلقہ محکمہ جات کے نمائندگان بھی ممبران ہوں گے۔اس ریسرچ کے بعد جامع رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کی جائے گی۔اجلاس میں سپیشل سیکرٹری آپریشنز نبیلہ عرفان،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر محمد وسیم،ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسرسائرہ افضل،ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹرخالد محمود،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل محکمہ صحت و آبادی ڈاکٹر زوہیب اور واسا کے افسران نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔