سپریم کورٹ بارالیکشن ‘ عاصمہ جہانگیر گروپ کا کلین سویپ ‘ ہارون الرشید ‘ زاہد اسلم سیکر ٹر ی منتخب
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ خبر نگار) سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں انڈیپنڈنٹ عاصمہ جہانگیر گروپ کے ہارون الرشید صدر جبکہ زاہد اسلم اعوان سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ ان کے مدمقابل حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار توفیق آصف جبکہ سیکرٹری کے میاں عرفان اکرم تھے۔ نائب صدور میں خالد مسعود سندھو پنجاب‘ لیاقت ترین بلوچستان‘ فضل شاہ مہمند کے پی کے‘ لطف اﷲ آرائیں سندھ سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ جبکہ سردار طارق حسین ایڈیشنل سیکرٹری‘ سائرہ خالد راجپوت فنانس سیکرٹری‘ الٰہی بخش مینگل‘ شاہ رسول کاکڑ‘ ایگزیکٹو ممبر بلوچستان‘ ضیاء اﷲ درانی‘ راحیلہ بی بی کے پی کے‘ حافظہ مہناز ندیم عباسی ملتان بہاولپور‘ امجد شیرازی‘ جاوید عمران رانجھا پنجاب‘ ڈاکٹر شاہ نواز‘ ذوالفقار حیدر شاہ سندھ کی سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ دریں اثناء نومنتخب صدر ہارون الرشید نے سیکرٹری ملک زاہد اسلم اعوان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ وہ طاقتیں جو عدلیہ کو بلیک میل کرتی ہیں‘ پارلیمان کی تذلیل کرتے ہیں‘ ان کو جواب مل گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آئینی عدالت بنانی چاہیے اور ججز کی مدت 70 سال ہونا چاہیے۔ سب سے پہلی کوشش آئینی عدالت کا قیام ہے تا کہ اشرافیہ کے کیسز آئیں اور سزائیں سنائی جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اشرافیہ کو سزائیں آئینی عدالت دے اور باقی لوگوں کے کیسز دوسری عدالتوں میں چلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔