Juraat:
2026-07-24@03:20:44 GMT

جھوٹ کا چیمپئن بھارتی میڈیا

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

جھوٹ کا چیمپئن بھارتی میڈیا

ریاض احمدچودھری

معرکہ حق کے بعد بھارتی میڈیا پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ایک بارپھر جھوٹی خبروں کا پرچار کرنے لگ گیاہے۔بھارتی میڈیا پاکستان مخالف خبریں چلانے کا شوقین اور پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کرگیاہے۔اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کے دوبارہ آغاز کی خبریں چلانی شروع کر دیں۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھر سے جنگ شروع ہو گئی ہے اور دونوں اطراف سے قندھار کے قریب بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا ہے کہ مقامی ذرائع نے ان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا پر آنے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹی ہے۔ اپنے عوام کو خوش کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلانابھارتی میڈیا کی عادت بن گئی ہے۔
امریکی روزنامہ دی واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیاہے کہ بھارتی میڈیا اور مودی حکومت آپریشن سندور میں کامیابی سے متعلق عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ان سے مسلسل جھوٹ بولتی رہی۔ دی واشنگٹن پوسٹ نے آپریشن سندور سے متعلق بھارتی پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر بے نقاب کیاہے جس سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کاسامنا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا نے بی جے پی حکومت کے اشارے پرپاک بھارت جنگ سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلائیں، پاکستان کے تمام بڑے شہروں پر بمباری ،قبضے اور فتح کے جھوٹے دعوے کیے گئے جو کہ حقیقت کے برعکس تھے۔اے آئی کے ذریعے جنگ کی جھوٹی اور فرضی ویڈیوز،تصاویراور من گھڑت خبریں اورتصاویریں بنا کر عوام میں پھیلائی گئیں۔اخبار کے مطابق یہ صحافت نہیں بلکہ بھارتی ریاستی سرپرستی میں تیار کردہ فکشن تھا، جس کا مقصد بھارت کی عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور خطے میں کشیدگی کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرنا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں مودی حکومت کے نام نہاد دعوئوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ بھارتی میڈیا نے پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران جھوٹی جنگی خبریں پھیلائیں۔ فلاڈیلفیا میں طیارہ حادثہ، ویڈیو گیمز کے مناظرکو "پاکستان پر حملے”کے مناظر کے طورپرپیش کیاگیا۔ زی نیوز، این ڈی ٹی وی، آج تک اور ٹائمز نائو جیسے بھارتی چینلز نے جھوٹی ویڈیوز چلائیں۔ غزہ اور سوڈان کی ویڈیوز کو پاکستان پر حملے کی ویڈیوز کے طورپرپیش کیا گیا۔بی جے پی کے زیر اثر بھارتی میڈیا چینلز نے کراچی پر حملے اور پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کے جھوٹے دعوے کئے گئے جن کا دور دور تک سچائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بھارتی بحریہ اور فضائیہ نے کسی حملے کی تصدیق نہیں کی مگر نیوز چینلز نے جنگی جنون کو ہوا دینے کیلئے پاکستان کے بیشتر شہروں پر حملوں اور قبضے اور پاکستانی فضائیہ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے من گھڑت دعوے نشر کیے۔ گودی میڈیا نے ریٹائرڈ بھارتی فوجی افسران کوجنگ سے متعلق جھوٹی خبروں کو سچائی پر مبنی قراردینے کے لیے بطور ترجمان استعمال کیا۔ بی جے پی حکومت کے واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے اینکرز کوجھوٹی خبریں پہنچائی گئیں اور انہوں نے تصدیق کرنے کی زحمت گوارا کئے بغیر انہیں اسی طرح نشر کردیا۔
بھارتی ”ٹی وی چینلز جھوٹی کہانیاں گھڑنے والوں کے زیر تسلط ہیں”۔ پاک بھارت جنگ سے متعلق بھارتی عوام کو گمراہ کیا گیا جس سے خود عالمی سطح پر بھارت کی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بھارتی سکیورٹی عہدیدارنے اعتراف کیاہے کہ جھوٹی معلومات عوام تک پہنچانا ایک جنگی حکمت عملی تھی، لیکن اس کا نقصان بھارت کو ہی اٹھانا پڑا۔ ریاستی پروپیگنڈا حقائق پر غالب آ گیا: سچائی کی جگہ سیاسی وفاداری نے لے لی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس تمام صورتحال پر خاموشی اختیار کی اور مودی نے سیز فائر کے دو دن بعد بیان دیا لیکن اس دوران خلا کو جھوٹ سے پر کیا گیا۔بھارتی میڈیا نے نام نہاد قوم پرستی کو پراپیگنڈے کیلئے استعمال کیا اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے تاہم اس کا نقصان ملک اور میڈیا دونوںکو اٹھانا پڑا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا کے جھوٹ کی قلعی کھولنے پر مودی سرکار نے بی بی سی اور ٹی آر ٹی سمیت متعدد عالمی میڈیا پر پابندیاں عائدکردیں۔ بی جے پی کے جھوٹے بیانیہ کو چیلنج کرنے والے مقامی صحافیوں کو گرفتار کر کے انکے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، روئٹرز، ٹی آر ٹی، الجزیرہ اور بی بی سی نے جنگ سے متعلق بھارتی میڈیا کے جھوٹ کوبے نقاب اور پاکستانی میڈیا کو پیشہ ورانہ شفافیت کو سراہا ہے۔
نام نہاد امارات اسلامی کے علمبردار افغان طالبان، بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے ہیں، جو اپنے مذموم مفادات کی تکمیل کے لیے فتنہ الخوارج اور طالبان کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔بھارتی میڈیا نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے دعوں کی بھرمار کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا اور دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ 15اکتوبر کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک جھوٹا بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیاتھا کہ افغان طالبان نے پاکستانی ٹینک پر قبضہ کیا ہے۔ اس بے بنیاد دعوے کو بھارتی میڈیا نے خوب اچھالا، تاہم فیکٹ چیک پلیٹ فارم ”گروک” نے اس جھوٹ سے پردہ اٹھایا اور واضح کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا روسی ساختہ ٹینک دراصل پہلے ہی افغان طالبان کے زیر استعمال تھا۔اسی طرح ذبیح اللہ مجاہد نے افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کے حوالے سے بھی ایک بیان جاری کیا، جسے بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے پاکستانی علاقے کی طرف کا گیٹ قرار دیا۔در حقیقت دوستی گیٹ افغانستان کی طرف سے طالبان نے آئی ای ڈی لگا کر تباہ کیا جبکہ پاکستانی سمت کا گیٹ اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کابل میں ہونے والے حالیہ دھماکے کو بھارتی اور افغان میڈیا نے آئل ٹینکر کے پھٹنے کا نتیجہ قرار دیا جبکہ درحقیقت یہ دھماکہ پاک فوج کی جانب سے کی گئی ”پریسیڑن اسٹرائیکس” کا نتیجہ تھا۔
بھارتی گودی میڈیا فیک اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز سے بھی جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہے۔ حال ہی میں شمالی وزیرستان کے شہری عادل داوڑ کو شہید پاکستانی فوجی قرار دیا گیا، جس پر خود عادل داوڑ نے ایک ویڈیو پیغام میں تمام جھوٹے دعوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی شناخت اور موجودگی کی تصدیق کی۔یہ چار بڑے جھوٹ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج اب بھارت کے جھوٹے بیانیے کا حصہ بن چکے ہیں۔ بھارتی حکومت اور میڈیا، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، اور مسلسل منظم پروپیگنڈا کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ بھارتی پروپیگنڈے کا جواب شواہد اور حقائق کے ساتھ دیا ہے۔ ماضی میں بھی معرکہ حق کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا، اور آج بھی افغان جارحیت کے دوران شواہد کے ساتھ دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا نے واشنگٹن پوسٹ افغان طالبان اور پاکستان پاکستان کے کہ بھارتی بے بنیاد کو گمراہ کے جھوٹے کے ذریعے بی جے پی کیا گیا کے جھوٹ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی