ڈیرہ غازی خان میں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ڈیرہ غازی خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اکتوبر2025ء) تھانہ گدائی پولیس کی جانب سے سخی سرور روڈ پر ٹرکوں سے سامان لوٹنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ گدائی پولیس گشت پر تھی کہ اطلاع ملی پانچ نامعلوم مسلح افراد سخی سرور روڈ پر ٹرکوں سے سامان اتار کر لوٹ مار میں مصروف ہیں۔
(جاری ہے)
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو گھیرنے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔پولیس نے حفاظتِ خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے ایک ڈاکو موقع پر ہلاک ہو گیا جس کی شناخت عثمان ولد ریاض کے نام سے ہوئی، جبکہ دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس کی جانب سے علاقے میں فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی تفتیش اور دیگر قانونی کارروائی جاری ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک