محمد رضوان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) نے ون ڈے ٹیم کے کپتان محمد رضوان کو قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان نے نسیم شاہ کا موبائل فون توڑ دیا، مگر کیسے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد رضوان کی جگہ شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ٹی 20 ٹیم کی قیادت میں کسی تبدیلی کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور سلمان علی آغا کو بطور کپتان برقرار رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے اور ٹی20 پلیئرز کی نئی رینکنگ جاری، بابر اعظم اور محمد رضوان کی تنزلی
دوسری جانب جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے لیے اسکواڈ کا باضابطہ اعلان پیر کو متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی سی بی ٹی 20 جنوبی افریقہ سیریز شاہین شاہ آفریدی کرکٹ محمد رضوان ون ڈے ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی سی بی ٹی 20 جنوبی افریقہ سیریز شاہین شاہ ا فریدی کرکٹ محمد رضوان ون ڈے ٹیم محمد رضوان ون ڈے ٹیم
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔