انگلش آل راؤنڈر معین علی نے بھی آئی پی ایل چھوڑ کر پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شامل ہونے کے لیے سابق انگلش کرکٹر معین علی نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد یہ سلسلہ جنوبی افریقی سابق کپتان فاف ڈو پلیسی تک بھی پہنچ چکا ہے۔
فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ کی معروف ایپلیکیشن انسٹاگرام پر انسٹا پوسٹ شیئر کرتے ہوئے سابق انگلش کرکٹر معین علی نے کہا کہ یہ ان کے کیریئر میں نئی شروعات کا وقت ہے اور وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے نئے دور میں شامل ہونے پر بے حد پرجوش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل اپنے اعلیٰ معیار اور عالمی سطح کے ٹیلنٹ کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
سابق انگلش کرکٹر نے پاکستان میں کھیلنے کے تجربے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ اور شائقین کا غیرمعمولی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے، جس سے کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کے لیے متاثر ہوتا ہے۔
معین علی نے یقین دلایا کہ وہ اس نئے تجربے سے یادگار لمحات حاصل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور انشاء اللہ یہ سفر ان کے لیے یادگار ثابت ہوگا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ہی فاف ڈو پلیسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے آئی پی ایل میں شرکت نہ کرنے اور پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کا اعلان کیا تھا، جس سے کرکٹ دنیا میں دلچسپی اور جوش بڑھ گیا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معین علی نے پی ایس ایل کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔