جنوبی افریقہ کے اسٹار کھلاڑی نے آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سابق جنوبی افریقی کپتان فاف ڈو پلیسی نے آئندہ ایڈیشن میں پاکستان سپر لیگ میں شرکت کے لیے انڈین پریمیئر لیگ سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ فاف ڈوپلیسی نے یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیا جس میں انہوں نے آئی پی ایل نیلامی میں نام شامل نہ کرنے کا بتایا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل فرنچائز رائٹس، کراچی کنگز سمیت 4 ٹیموں کے معاہدوں کی تجدید، ملتان سلطانز کا مستقبل غیر واضح
فاف ڈو پلیسی کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں 14 سالہ سفر ان کے لیے یادگار رہا اور اس دوران ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور ٹیم اسٹاف کی معاونت پر وہ شکر گزار ہیں، تاہم اب وہ ایک نئے چیلنج کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق پی ایس ایل میں کھیلنا ان کے کیریئر کا نیا اور دلچسپ مرحلہ ہوگا جہاں انہیں نئی توانائی اور بہترین ٹیلنٹ کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے گا۔
View this post on Instagram
A post shared by F A F D U P L E S S I S (@fafdup)
سابق کپتان نے پاکستان کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی ایس ایل کے تجربے اور اس کے چیلنجز کے لیے پرجوش ہیں۔
ادھر پی ایس ایل میں اس سال توسیع کی جارہی ہے اور 2 نئی فرنچائزز شامل ہوں گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نئی ٹیموں کی نیلامی 6 جنوری کو ہوگی۔ نئی فرنچائزز کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، راولپنڈی، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد اور گلگت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کا فیصلہ کون اور کیسے کرے گا، پی سی بی نے واضح کردیا
مزید یہ کہ لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے فرنچائز معاہدے مزید 10 سال کے لیے تجدید کر دیے ہیں، جبکہ ملتان سلطانز کے علی ترین نے مالی خسارے کے باعث معاہدہ نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی پی ایل پاکستان پی ایس ایل پی سی بی جنوبی افریقہ ڈوپلیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل پاکستان پی ایس ایل پی سی بی جنوبی افریقہ ڈوپلیسی پی ایس ایل ایل میں کے لیے پی ایل
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔